غزہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے کوشاں ہیں: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیل اور حماس کے درمیان گزشتہ دنوں پیدا ہونے والے بحران کے خاتمے کے لیے ثالثوں کی جانب سے کی گئی پیش رفت کی روشنی میں فلسطینی تحریک حماس نے کہا ہے کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد کی خواہشمند ہے۔ حماس نے جمعرات کو ایک بیان میں طے شدہ وقت کے مطابق جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ تاہم حماس نے کہا ہمیں جنگ بندی کے خاتمے میں دلچسپی نہیں بلکہ جنگ بندی کے خاتمہ کی ذمہ داری اسرائیل پر ہے۔

حماس نے کہا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے خاتمے کو روکنے کی خواہشمند ہیں۔ وہ اس میں خلل ڈالنے میں دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ اس پر عمل درآمد کی خواہشمند ہے۔ ثالث 19 جنوری کو نافذ ہونے والے معاہدے کے مکمل نفاذ کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اسرائیل انسانی ہمدردی کے پروٹوکول کی پابندی کرنے اور اگلے ہفتے کے روز تبادلے کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا پابند ہے۔ تحریک حماس نے نشاندہی کی کہ ثالثوں نے غزہ معاہدے میں رکاوٹوں کو دور کرنے اور خلا کو پر کرنے کی تصدیق کی ہے۔ ثالثی کی کوششوں کے قریب ایک فلسطینی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ غزہ کے حوالے سے ثالثوں کی طرف سے کیے گئے رابطے اس بات کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوئے کہ فریقین کی جانب سے پٹی میں جنگ بندی پر عمل درآمد جاری رکھنے کے عزم کو یقینی بنایا جائے گا ۔

بحران کا خاتمہ

اسی وقت معاہدے کو بچانے سے متعلق مذاکرات سے واقف دو فلسطینی ذرائع نے پیش رفت کی اطلاع دی ہے جس کے نتیجے میں ہفتے کے روز اسرائیلی قیدیوں اور فلسطینی قیدیوں کے نئے تبادلے پر منصوبہ بندی کے مطابق عمل درآمد ہو سکتا ہے۔ ذرائع میں سے ایک نے یہ بھی وضاحت کی ہے ثالثوں نے وسیع بات چیت کی اور آج سے شروع ہونے والے انسانی ہمدردی کے پروٹوکول کی دفعات کو لاگو کرنے کے لیے ابتدائی اسرائیلی عہد حاصل کیا گیا ہے۔

ایک اور ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ حماس نے مصری حکام کو معاہدے کے لیے اپنے عزم اور اسرائیل کے وعدے کے ساتھ ہی قیدیوں کے تبادلے کے چھٹے بیچ کو بروقت نافذ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب حال ہی میں جنگ بندی کے خاتمے کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں ۔ اس سے قبل حماس نے کہا تھا کہ اسرائیل نے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے اور تباہ شدہ پٹی میں بے گھر فلسطینیوں کے لیے امداد اور خیموں کے داخلے میں رکاوٹ ڈالی ہے ،اس لیے قیدیوں کے چھٹے بیج کی رہائی کو روک دیا جائے گا۔

اسرائیلی فریق نے دھمکی میں دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہفتہ کے روز یرغمالی رہا نہ کیے گئے تو غزہ کو جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ دریں اثنا اسرائیلی فوج نے غزہ میں ممکنہ لڑائی دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کے لیے ریزرو فورسز کو طلب کر لیا ہے۔ یاد رہے معاہدے کے تحت قیدیوں کے پہلے 5 تبادلوں کے دوران سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں 16 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردیا ہے۔ جنگ بندی معاہدے کے پہلے 42 روزہ مرحلے کے دوران کل 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا جانا طے کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں