ٹرمپ کا غزہ سے فلسطینیوں کے انخلاء کا منصوبہ نسلی تطہیر ہے ، حمزہ یوسف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سکاٹ لینڈ کے سابق فرسٹ منسٹر حمزہ یوسف نے امریکہ کی طرف سے پیش کردہ فلسطینیوں کے غزہ سے انخلاء کے منصوبے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی درسی کتاب میں نسلی تطہیر کی بیان کی گئی تعریف کے مطابق یہ منصوبہ قابل مذمت اور نسلی تطہیر کا منصوبہ ہے۔

حمزہ یوسف نے ان خیالات کا اظہار 'العربیہ' کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا 'ہر کتاب میں یہی تعریف لکھی گئی ہے۔' وہ اس سوال کا جواب دے ریے تھے کہ کیا امریکہ کا یہ منصوبہ نسلی تطہیر کی عالمی سطح پر موجود تعریفوں کے مطابق ہے۔

انہوں نے اس پر بھی سخت تشویش ظاہر کی کہ غزہ میں جنگ بندی خطرے میں ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کسی بھی وقت جنگ بندی معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔

یاد رہے اسرائیل کی غزہ میں ساڑھے 15 ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد 19 جنوری سے جنگ بندی معاہدے پر عمل شروع ہوا ہے۔

حمزہ یوسف نے خبردار کیا 'اگر یہ جنگ بندی معاہدہ ناکام ہوا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان فلسطینی شہریوں کو ہوگا نہ کہ کسی دہشت گرد کو اور پھر جنگ بندی معاہدے کے ناکام ہونے کے مضمرات سب کو بھگتنا ہوں گے۔'

سکاٹ لینڈ کے سابق فرسٹ منسٹر نے اس امر پر تنقید کی کہ یورپی ملکوں کے رہنما امریکہ کے صدر ٹرمپ کی طرف سے پیش کیے گئے فلسطینیوں کے جبری نقل مکانی کے منصوبے کو نسل پرستی کی وجہ سے نسلی تطہیر کا منصوبہ قرار نہیں دے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی ریمارکس یوکرین کے لوگوں کے بارے میں روسی صدر پیوتن کی طرف سے آتے تو مغربی دنیا کے رہنماؤں کا ردعمل بالکل مختلف ہوتا۔

انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے ان ملکوں پر بھی تنقید کی جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا 'سکاٹ لینڈ کے پاس یہ قانونی استحقاق موجود ہے اور وہ فلسطین ریاست کو تسلیم کرے گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے دو ریاستی حل سے اتفاق کر لیا مگر تسلیم صرف ایک ریاست کو کیا۔ یہ منطق ناقابل فہم ہے۔

ایلون مسک ، کرہ ارضی پر خطرناک ترین شخص

حمزہ یوسف نے دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک اور صدر ٹرمپ کے انتہائی معتمد ساتھی ایلون مسک کو ماضی میں جو لقب دیا تھا کہ یہ دنیا کا خطرناک ترین شخص ہے۔ انہوں نے اس انٹرویو کے دوران بھی اپنے ان ریمارکس کو دہرایا اور کہا یہ زمین پر سب سے زیادہ خطرناک شخص ہے۔ میں جب اسے یہ کہتا ہوں تو میرے پاس اس کے لیے استدلال موجود ہے کہ وہ اپنے اربوں ڈالر کا استعمال کر کے دنیا کے طاقتور ترین شخص امریکی صدر تک بلاروک ٹوک رسائی کو بھی خرید لیتا ہے اور اس نے ایسا کر لیا ہے۔ یقیناً یہ اچھے مقاصد کے لیے نہیں کیا گیا بلکہ ناپسندیدہ اور قابل مذمت مقاصد کے لیے کیا گیا ہے۔'

حمزہ یوسف نے ایلون مسک پر الزام عائد کیا کہ وہ انتہائی مذہبی گروپوں کے ساتھ مل کر امریکہ میں سفید فام بالادستی کے لیے ہمدردیاں رکھتا ہے۔ میرے خیال میں ایلون مسک نہ صرف اسلاموفوبیا کا شکار ہے بلکہ وہ ایک ایسا شخص ہے جو واضح طور پر سفید فاموں کی بالادستی اور انتہائی دائیں بازو کے لیے ہمدردی کے خیالات رکھتا ہے۔

سکاٹش فرسٹ منسٹر نے ایلون مسک کی طرف سے برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر پر سرعام حملہ آور ہونے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مغربی جمہوریت اس وقت ایسے خطروں سے دوچار ہے جو اسے تباہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے امریکہ و یورپ میں انتہائی دائیں بازو کے اوپر آنے کو کہا کہ یہ لوگ مسلمانوں سے نفرت رکھتے ہیں۔ اگر ہم نے انتہائی دائیں بازو کو اسی طرح ابھرنے کی اجازت دیے رکھی اور اس کا راستہ نہ روکا اور اس کی حمایت کرنے والوں کا مقابلہ نہ کیا جو ایلون مسک کی طرح اس کو بڑھا رہے ہیں تو میرے خیال میں مغربی جمہوریت مکمل خطرے میں ہوگی۔

انہوں نے اپنے مؤقف کے حق میں دلیل پیش کرتے ہوئے کہا سیاست میں ایلون مسک کا اثر و رسوخ بڑھ جانا جمہوری نظام کو کمزور کر دینے کے مترادف ہے۔

حمزہ یوسف نے کہا 'جب ارب پتی لوگوں کے پاس انتخابی عمل میں ہیرا پھیری کرنے کا اختیار ہو تو حقیقی جمہوریت کیسے قائم رہ سکے گی۔ جیسا کہ ایلون مسک جیسے لوگ انتخابات خرید سکتے ہیں۔ جب دنیا کے امیر ترین آدمی اپنی دولت اور پلیٹ فارم کے اثر و رسوخ کے ذریعے منتخب حکمرانوں کا تختہ الٹ سکتے ہیں یا ان کا تختہ الٹنے کی کوشش کر سکتے ہیں تو زمین پر جمہوریت کیسے پنپ سکے گی۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ دائیں بازو کی بالادستی اور اس کی آواز کو اونچا کرنے میں ایلون مسک کا جو کردار ہے وہ مغربی جمہوریت کے لیے سب سے بڑے خطرے کی بات ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں