وساطت کاروں کا دباؤ کام کر گیا ، غزہ معاہدے پر عمل درآمد میں کوئی رکاوٹ نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصری ذرائع نے باور کرایا ہے کہ غزہ کی پٹی میں فائر بندی معاہدے پر عمل درآمد کی راہ میں ابھی تک حائل تمام رکاوٹیں وساطت کاروں (مصر، قطر اور امریکا) کی کوششوں سے کامیابی سے دور کر دی گئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں میں گشتی گھر، خیمے، غذائی مواد اور ایندھن کا داخلہ شروع ہو گیا۔

ذرائع نے واضح کیا کہ آئندہ ہفتے کے روز قیدیوں کے تبادلے کا چھٹا مرحلہ انجام پانا مقرر ہے جیسا کہ منصوبے میں شامل تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے حماس تنظیم کے ساتھ مفاہمت ہو جانے سے متعلق خبروں کو "جعلی" قرار دیا۔

ادھر حماس تنظیم اس سے پہلے اعلان کر چکی ہے کہ وہ غزہ میں فائر بندی کا معاہدہ نہ ٹوٹنے کی خواہاں ہے۔ تنظیم نے باور کرایا ہے کہ "ہم معاہدے پر عمل درآمد اور قابض (اسرائیل) کی جانب سے مکمل پاسداری کی شدید خواہش رکھتے ہیں"۔

وساطت کاری کی کوششوں سے قریب ایک فلسطینی عہدے دار نے تصدیق کی ہے کہ وساطت کاروں کی جانب سے کیے گئے رابطوں میں تمام فریقوں کی جانب سے معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھنے کی ضمانت حاصل ہو گئی ہے۔

ایک با خبر فلسطینی ذریعے کے مطابق "حماس نے مصری ذمے داران کو معاہدے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے پاسداری کی صورت میں وہ قیدیوں کے تبادلے کی چھٹے مرحلے کو اس کے وقت پر ہی انجام دے گی"۔

یاد رہے کہ اب تک قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے کے تحت 5 قسطوں میں 16 اسرائیلیوں اور ان کے مقابل سیکڑوں فلسطینیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔

تبادلے کے سمجھوتے کا پہلا مرحلہ 42 روز جاری رہے گا جس کے دوران میں 33 اسرائیلی قیدیوں کے مقابل تقریبا 700 فلسطینیوں کو آزاد کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں