حماس نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں نظربند اسرائیلیوں کی زندگیوں کے مفاد میں اسرائیل کے ساتھ طے پائےمعاہدے کو نافذ کرنے کے لئے "اسرائیل" کو پابند بنائے۔
حماس کے ترجمان حازن قاسم نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو اسرائیل کو "اس بات پر راضی کرنے پر مجبور کرنا ہوگا۔ اگر وہ قیدیوں کی زندگیوں کا خواہشمند ہے تو اسے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرنا ہوگی"۔
خیال رہے کہ حماس کی طرف سےیہ بیان غزہ سے تین اسرائیلی شہریوں روسی نژاد اسرائیلی ساشا ٹروپانوف ،اسرائیلی شہری ساگی ڈیکال ہان اور ییر سینگ کو کرام ابو سالم کراسنگ سے اسرائیل کے حوالے کیا۔
ان قیدیوں کو حماس اور اسلامی جہاد کے جنگجوؤں کے جھرمٹ اور عام شہریوں کی بڑی تعداد میں موجودگی کے دوران ریڈ کراس کے حوالے کیا۔
ادھر اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو عوفر جیل سے رہا کیا۔ اس موقعے پر العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ رہانے والے دسیوں فلسطینی غزہ کی پٹی پہنچے جہاں لوگوں کی بڑی تعداد ان کے استقبال کے لیے جمع تھی۔
قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت یہ پہلے مرحلے میں چھٹی کھیپ ہے جس میں عمر قید کے 36 فلسطینیوں اور غزہ کے 333 فلسطینیوں جنہیں سات اکتوبر کے بعد گرفتار کیا گیا کو رہا کیا گیا۔
-
غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلاء کا امریکی منصوبہ مسترد، مارشل پلان کا مطالبہ: شہزادہ ترکی
سعودی عرب کے شہزادہ ترکی الفیصل نے غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلاء اور مصر و اردن ...
مشرق وسطی -
غزہ جنگ بندی معاہدہ : فلسطینی قیدیوں کی اسرائیلی جیلوں سے رہائی ، بسیں غزہ پہنچ گئیں
بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے وابستہ صحافی نے بتایا ہے کہ اسرائیلی ...
مشرق وسطی -
جنگ بندی معاہدہ : اسرائیلی قیدیوں کی غزہ سے رہائی، اہلخانہ نے بھرپور استقبال کیا
سینکڑوں اسرائیلی ہفتہ کے روز تل ابیب میں موجود تھے۔ تاکہ حماس کے ساتھ جنگ بندی ...
مشرق وسطی