سعودی عرب کے شہزادہ ترکی الفیصل نے غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلاء اور مصر و اردن منتقلی کے امریکی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے غزہ کے لیے امریکی قیادت سے 'مارشل پلان' کا مطالبہ کیا ہے۔
میونخ میں ہونے والی سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ ترکی الفیصل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلاء کی تجویز کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ نیز اس امر کا مطالبہ کیا کہ اسرائیلی بمباری سے تباہ حال غزہ کی تعمیر نو میں مدد کی جائے اور فلسطینیوں کو ان کی اپنی سرزمین پر رہنے دیا جائے۔
"العربیہ" کی ہیڈلی گیمبل کو انٹرویو دیتے ہوئے شہزادہ فیصل نے کہا 'دنیا متبادل آئیڈیاز سے بھری ہوئی ہے۔ عرب امن اقدام بہت جامع متبادل ہے جو اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تنازع کے خاتمے کو مدنظر رکھے گا۔'
انہوں نے مزید کہا 'غزہ کے لیے دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کے مارشل پلان طرز پر سوچا جا سکتا ہے۔ امریکہ نے براعظم کی دوبارہ تعمیر کی تھی۔ غزہ کے فلسطینی اپنی جگہ پر رہیں۔ جیسے امریکہ نے یورپیوں کو یورپ سے باہر نہیں بھیجا تھا۔'
واضح رہے سعودی شہزادہ ترکی الفیصل نے ان خیالات کا اظہار غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلاء کے امریکی منصوبے کے سامنے آنے کے چند روز بعد کیا ہے۔
یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ پریس میں غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلاء کا منصوبہ پیش کرتے ہوئے غزہ کو 'رویرا' نامی پرتعیش واٹر فرنٹ میں تبدیل کرنے کا کہا تھا۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں مصر یا اردن منتقل کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب مصر اور اردن نے امریکی منصوبے کو مسترد کیا ہے۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا 'ٹرمپ کا منصوبہ کہیں فروخت نہیں ہو رہا۔ فلسطینیوں کو اگر کہیں منتقل کرنا ہے تو ان کے زیتون کے باغ واپس کیے جائیں جو اسرائیلی آبادکاروں نے ان سے چھینے تھے اور ان کی زمینوں پر قبضہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کو بےدخل کر دیا۔'
امریکہ فلسطینیوں کے نقصان کو تسلیم کرے
شہزادہ فیصل نے اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت پر امریکی غم و غصے پر امریکہ کو یاد دلاتے ہوئے کہا 'امریکہ کو اس امر کا خیال رہنا چاہیے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران فلسطینیوں کا قتل اسرائیل کے اتحادی امریکہ کے ہتھیاروں اور گولہ بارود سے ہوا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو ہم کسی بھی طرح تنازعے کے حل کی طرف نہیں جا سکیں گے۔ میرے خیال میں ہمیں انتظار کرنا چاہیے۔'
خیال رہے اسرائیلی بمباری سے جاں بحق ہونے والے 48100 سے زائد فلسطینی شہریوں میں زیادہ تر تعداد فلسطینی بچوں اور عورتوں کی ہے۔ جبکہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد واپس پلٹ کر آنے والے بےگھر فلسطینی اپنے تباہ شدہ گھروں کے ملبے سے لاشیں نکالنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے فلسطینیوں کی ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔
یاد رہے امریکہ نے اسرائیل کی مدد و حمایت مسلسل جاری رکھی ہے اور اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کی اسرائیل کو فروخت کی منظوری بھی دی ہے۔
سعودی عرب نے صدر ٹرمپ کے کھلے پن کا اشارہ دے دیا
شہزادہ ترکی الفیصل نے غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلاء کے امریکی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ سابق امریکی صدر جوبائیڈن نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر شہزادہ فیصل نے روس یوکرین کے درمیان امن معاہدے کے لیے ریاض میں سربراہی اجلاس کا بھی خیر مقدم کرتے ہوئے اس امر کو 'اچھی تلاش' قرار دیا اور کہا مملکت صدر ٹرمپ اور روسی صدر کی ملاقات کا پہلے ہی خیرمقدم کرچکی ہے۔
شہزادہ فیصل نے کہا 'ٹرمپ پہلی مدت صدارت کے دوران سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ خطے کا دورہ کرنا چاہتے ہیں ۔ میں انہیں اس کی ترغیب دوں گا۔ '
شہزادہ فیصل سے انٹرویو کے دوران میزبان گیمبل نے سوال کیا کہ کیا ریاض میں مسئلہ فلسطین کے سلسلے میں ثالثی کی جاسکتی ہے تو انہوں نے کہا ' کیوں نہیں؟'
میونخ میں جے ڈی وینس نے شعلہ بیان خطاب کرتے ہوئے کہا ' یورپ کے حوالے سے جس خطرے کی مجھے سب سے زیادہ فکر ہے وہ روس نہیں ہے۔' ان کا یہ خطاب جمعہ کے روز ہوا ہے۔ اس موقع پر وینس نے جبری نقل مکانیوں اور اظہار رائے کی خلاف ورزیوں پر بھی بات کی۔
وینس نے کہا ' جمہوریت اس مقدس اصول پر قائم ہے کہ لوگوں کی آواز اہمیت رکھتی ہے۔ 'فائر وال' کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ آپ یا تو اس اصول کو قائم رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے۔ '
وینس نے مزید کہا ' 100000 ڈالر کی بیرونی امداد اور ڈیجیٹل اشتہاروں سے اگر جمہوریت کو تباہ کیا جا سکتا ہے تو اس کا آغاز اتنا مضبوط نہیں تھا۔'
وینس کے ان خیالات نے میونخ میں موجود سفارتکاروں اور سیکیورٹی حکام کو حیران کر دیا ۔ نیٹو میں سابق امریکی سفیر ایوو ڈالڈر نے وینس کے اس خطاب کو 'نٹس' کے طور پر بیان کیا ہے۔
-
شہزادہ ترکی الفیصل کی غزہ پر کارروائی نہ کرنے پر امریکہ اور اتحادیوں پر تنقید
سعودی عرب کے شہزادہ ترکی الفیصل نے غزہ میں جاری بحران پر بین الاقوامی ردِ عمل کی ...
مشرق وسطی -
اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کواذیتی کیمپوں میں ڈال رکھا ہے:شہزادہ ترکی الفیصل
اسرائیل مشرقِ اوسط میں آخری نوآبادیاتی قوت ہے، فلسطینیوں کوآبائی سرزمین پر لوٹنے ...
مشرق وسطی -
سعودی،اسرائیلی تعاون’’خیالی پلاؤ‘‘،مملکت کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا:شہزادہ ترکی الفیصل
سعودی عرب کے انٹیلی جنس ادارے کے سابق سربراہ اور چیئرمین شاہ فیصل مرکز ...
مشرق وسطی