شام کے یہودی 33 سال کی غیر حاضری کے بعد سرکاری دعوت پر واپس آگئے

1992 میں میڈرڈ مذاکرات کے بعد شام سے 5 ہزار سے زیادہ یہودی رخصت ہوئے ، بہت سے امریکہ اور یورپ میں آباد ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حکام کی طرف سے ایک سرکاری دعوت پر شامی ربی یوسف الحمرا غیر معمولی حالات میں اپنی روانگی کے 33 سال بعد واپس شام آئے ہیں۔ یہاں آکر انہوں نے یہودیوں کے متعدد تاریخی مقامات کا دورہ کیا۔ ان مقامات میں قدیم ترین اور اہم عبادت گاہ ’’ جوبر‘‘ بھی شامل تھا۔ انہوں نے ’’ ابن میمون‘‘ سکول اور دیگر یہودی عبادت گاہوں کا بھی دورہ کیا۔

یہودی ربی یوسف الحمرا نے شام کا دورہ کرنے اور یادیں تازہ کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ ایک شامی عہدیدار نے بتایا کہ وفد کے ارکان اپنی یادیں تازہ کرنے، اپنی جائیداد کی بازیابی اور نئی حکومت سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔

1992 میں، میڈرڈ مذاکرات کے بعد شام سے 5,000 سے زیادہ یہودی نکل گئے تھے۔ ان میں سے بہت سے امریکہ اور یورپ میں آباد ہوئے۔ اس عرصے کے دوران شام میں یہودیوں کی موجودگی کے ایک طویل دور کا خاتمہ ہوگیا۔ یہودیوں کو مشرق وسطیٰ کی قدیم ترین برادریوں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ ان کی تعداد 30 ہزار تھی۔ بیسویں صدی کے آخر تک دمشق اور حلب میں یہ تعداد کم ہو کر 8 رہ گئی تھی۔

شامی نژاد امریکی یہودیوں کا یہ پہلا دورہ نہیں ہے۔ نومبر 2021 میں 6 خواتین اور 6 مردوں نے شام کا دورہ کیا تھا جن میں سے زیادہ تر بچوں اور نوعمروں کے طور پر شام چھوڑ کر گئے تھے۔ یہ یہودی خاص طور پر نیو یارک کے بروکلین محلے میں رہائش پذیر تھے۔ اس دورے میں شامل ایک یہودی نے اسرائیلی ٹی وی چینل کان نیوز سے بات کی اور بتایا کہ اس کا مقصد دانتوں کے معائنے اور علاج کرنا تھا کیونکہ ان کے اخراجات امریکہ کے مقابلے میں شام میں سستے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دمشق میں مقیم آخری 3 یہودیوں سے ملے ہیں۔ یہ دورہ نجی تھا۔ انہوں نے حکومتی عہدیداروں سے ملاقات کی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب انہیں ہماری زبان سے معلوم ہوا کہ ہم شامی یہودی ہیں تو سب نے ہمیں یاد کیا۔ انہوں نے ہمیں پہچان لیا اور ہم سے کہا۔ آپ کو خوش آمدید ہے، یہ آپ کا ملک ہے۔ آپ واپس کیوں نہیں آجاتے؟ شامی انٹیلی جنس کی طرف سے بھی ہمیں دعوت دی گئی تھی لیکن اس وقت ذاتی وجوہات کی بنا پر ایسا نہیں ہوا تھا۔ امریکی یہودیوں کے ایک اور وفد نے ستمبر 2021 میں حلب شہر کا سفر کیا اور اس عبادت گاہ کا دورہ کیا جسے شامی حکومت کے مخالفین کی طرف سے جنگ کے بعد بحال کیا گیا تھا۔ یہ دورہ بعد میں روسی حکام کے جاری کردہ اجازت ناموں کے ساتھ کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں