اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کی فضائیہ نے "لبنان-شام سرحد کے علاقے میں راہداری کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا" جسے حزب اللہ گروپ "لبنانی سرزمین میں ہتھیار سمگل کرنے کی کوششوں میں استعمال کرتا تھا۔" دوسری جانب شام کے جنگی نگران نے اس حملے میں زخمی ہونے والوں کی ایک غیر متعینہ تعداد کی اطلاع دی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا، "یہ سرگرمیاں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی مفاہمت کی صریح خلاف ورزی ہیں۔"
ایک سال سے زیادہ کی دشمنی کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 27 نومبر سے ایک نازک جنگ بندی زیرِ عمل ہے۔ فریقین نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔
جنگی نگراں ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ رات گئے اسرائیل نے شام کے صوبہ حمص سے متصل لبنان کے سرحدی قصبے وادی خالد کے قریب ایک "غیر قانونی راہداری" پر حملہ کر کے اسے "ناکارہ" کر دیا جس میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری نے مزید کہا کہ "سمگلروں کی گاڑیوں کا ایک قافلہ شام سے لبنان کی طرف جاتے دیکھا گیا جس کے بعد چھاپے مارے گئے"۔
آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن نے "حملوں میں عمارات اور گاڑیوں کو بھاری نقصان پہنچنے" کی اطلاع دی۔
لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے اطلاع دی، "دشمن کے طیارے ہرمل شہر اور شام کی سرحد کے قریب ملک کے شمال مشرق میں وادی بقاع کے دیہات کے اوپر کم بلندی پر پرواز کر رہے ہیں۔"
اسرائیل نے فوج کے انخلاء کی تازہ ترین ڈیڈ لائن سے عین قبل اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی افواج کو سرحد کے قریب "فوجی اہمیت کے حامل پانچ مقامات" پر عارضی طور پر برقرار رکھے گا۔
اس ماہ کے شروع میں اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے شام اور لبنان کی سرحد پر ایک سرنگ کو نشانہ بنایا تھا جسے حزب اللہ ہتھیاروں کی سمگلنگ کے لیے استعمال کرتی تھی۔
جنوری میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے شام کے برابر سرحد کے قریب سمگلنگ کے راستوں سمیت حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنایا۔
شام کی لبنان کے ساتھ 330 کلومیٹر (205 میل) مشترکہ سرحد ہے جس کی کوئی سرکاری حد بندی نہیں ہے۔
دسمبر میں شام میں بشار اسد کی معزولی کے بعد حزب اللہ سپلائی کے ایک اہم راستے سے محروم ہو گئی۔
حزب اللہ لبنان اور شام کے سرحدی علاقے کے بڑے حصوں پر قابض ہے اور اس نے جنگ کے دوران اسد کے فوجیوں کے ساتھ مل کر لڑائی کی۔