سعودی عرب کی محنت کش قوانین میں ترمیم: زچگی کی رخصت میں توسیع
ملازمین کے لیے سہولیات میں اضافہ
سعودی عرب کی وزارت برائے انسانی وسائل و سماجی ترقی نے محنت کشوں سے متعلق قانون میں نئی ترامیم کا اعلان کیا ہے جن میں زچگی کی طویل مدتی رخصت بھی شامل ہے۔
جمعرات کو نافذ ہونے والی نئی ترامیم کے تحت خواتین ملازمین کو 12 ہفتوں تک زچگی کی رخصت لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ وزارت کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد چھے ہفتے کی رخصت لازمی ہے اور باقی چھے ہفتے اپنی صوابدید پر لیے جا سکتے ہیں۔
رخصت کے لیے اہلیت پیدائش کی تاریخ سے چار ہفتے پہلے شروع ہوتی ہے۔
ایک اور نئی تبدیلی کے تحت ملازمین کو بہن یا بھائی کی موت پر تین دن کی چھٹی کی اجازت ہے۔
مزید برآں آجر اب اوور ٹائم کے معاوضے کے طور پر چھٹی دے سکتے ہیں جو ملازم کی رضامندی سے مشروط ہے۔
غیر معینہ مدت کے معاہدوں کے تحت کام کرنے والے ملازمین کے لیے برخاستگی نوٹس کے دورانیہ بھی بڑھا دیا گیا ہے اور اب ملازمین کو کم از کم 30 دن کا جبکہ آجروں کو 60 دن کا نوٹس دینا چاہیے۔
ملازمت کے لیے آزمائشی مدت (پروبیشن) کے لیے بھی 180 دن کا معیاری مقرر کر دیا گیا ہے اور فریقین اس مدت کے دوران معاہدہ ختم کر سکتے ہیں۔
آجر اپنے ملازمین کے لیے رہائش اور سفری سہولیات فراہم کرنے یا اس کے لیے نقد الاؤنس ادا کرنے کے بھی پابند ہیں۔
وزارت کے مطابق ملازمت کے معاہدوں کو نئے ضوابط کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے تاکہ بھرتی کے عمل میں زیادہ شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔
وزارت نے کہا کہ نئی ترامیم کارکنان کے حقوق میں اضافے، آجر اور ملازم کے تعلقات کی بہتری، زیادہ پرکشش لیبر مارکیٹ بنانے اور مملکت میں پیداواری صلاحیت اور ملازمین کا اطمینان بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔