فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل نے کیا شرط رکھ دی ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت" نے آج پیر کے روز انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے 4 یرغمالیوں کی لاشیں حوالے کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اس سے قبل اسرائیل نے 600 سے زیادہ فلسطینی اسیروں کی رہائی ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا تھا جن کو آزاد کرنے پر وہ آمادہ ہو چکا تھا۔

یاد رہے کہ فائر بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے ضمن میں حماس کی جانب سے ہفتے کو 6 اسرائیلی یرغمالی حوالے کر دیے جانے کے بعد اسرائیل نے اس کے مقابل مقررہ 600 سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی اچانک ملتوی کر دی۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے اتوار کی صبح جاری بیان میں بتایا گیا کہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی ملتوی کرنے کی وجہ حماس کی جانب سے "ذلت آمیز خلاف ورزیوں کا دہرایا جانا" ہے۔

ادھر حماس تنظیم کے ترجمان حازم قاسم نے گذشتہ روز کہا کہ قیدیوں کی رہائی کو ملتوی کیا جانا "فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی" شمار ہو گی۔ معاہدہ 19 جنوری سے نافذ العمل ہوا تھا۔

العربیہ نیوز کو دیے گئے بیان میں ترجمان کا کہنا تھا کہ حماس نے وساطت کاروں کو قیدیوں کی رہائی کی ضرورت سے آگاہ کر دیا ہے۔ ترجمان نے امید ظاہر کی کہ رہائی کا عمل آئندہ گھنٹوں کے دوران انجام پا جائے گا۔

غزہ کی پٹی میں ابھی تک 62 اسرائیلی یرغمالی موجود ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان میں 35 ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں