شام میں قومی مکالمہ کانفرنس ، احمد الشرع کا ریاست کی وحدت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام کے عبوری صدر احمد الشرع کا کہنا ہے کہ اس وقت ریاست کی تعمیر نو کا "غیر معمولی تاریخی نادر" موقع ہے۔

انھوں نے یہ بات آج منگل کے روز قومی مکالمہ کانفرنس میں اپنے خطاب میں کہی۔

سیکڑوں شامی آج اس ایک روزہ کانفرنس میں شرکت کے لیے دمشق میں صدارتی محل پہنچ گئے۔ یہ عام افراد سرخ قالینوں پر چلے جو ماضی میں محض چند بڑی غیر ملکی شخصیات کے لیے مخصوص ہوتا تھا جو سابق صدر بشار الاسد سے ملاقات کے لیے شام کا دورہ کیا کرتے تھے۔

احمد الشرع نے اپنے خطاب میں کہا کہ "شام نے خود کو خود سے آزاد کرایا ہے لہذا وہ اس لائق ہے کہ خود سے خود کی تعمیر کرے"۔

الشرع نے مختلف مسلح گروپوں کو ایک عسکری قیادت کے تحت متحد ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔

کانفرنس کے شرکاء چھ ورکنگ گروپوں میں تقسیم ہو گئے تا کہ عبوری نظام اور آئین، ریاستی اداروں کی تعمیر اور ذاتی آزادی، مستقبل میں شام کے لیے معاشی ماڈل اور ملک میں سول سوسائٹی کے کردار کو زیر بحث لایا جائے۔

کانفرنس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ آج کا دن مکمل ہونے تک سامنے آنے والی متفقہ سفارشات آئین کی تیاری میں معاون ثابت ہوں گی۔ اس کا مقصد شام میں نئے حکومتی نظام کے لیے بنیادی اصول وضع کرنا ہے۔ یکم مارچ سے اقتدار سنبھالنے والی نئی عبوری حکومت ان سفارشات پر غور کرے گی۔

احمد الشرع کے خطاب کے بعد کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے بین الاقوامی پابندیوں پر تنقید کی اور کہا کہ یہ "شامی عوام کے ارادے پر دباؤ کے ذریعے" کے طور پر استعمال کی جا رہی ہیں۔

اس موقع پر شرکاء میں شامل ایک خاتون نے کھڑے ہو کر بلند آواز میں کہا "الحمد للہ ، عوام کا محل عوام کے پاس واپس آ گیا !"۔

دوسری جانب کرد نیشنل کونسل نے شامی قومی کانفرنس کے انعقاد کے طریقہ کار پر اعتراض کیا ہے۔ کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ کانفرنس کی تیاری اور منصوبہ بندی کے عمل میں عوام کے سیاسی اور نسلی اجزاء کو جن میں کرد قومی کونسل بھی شامل ہے، نظر انداز کرنا کردوں کے قومی شراکت داری کے حق اور اصول کی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ شامی عوام کے کسی جزو کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔"

بعض ناقد حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ کانفرنس کی تیاری میں اتنی عجلت اور اقلیتوں کی کمزور نمائندگی کی وجہ سمجھ نہیں آئی۔

کانفرنس کی تیاری سے متعلق کمیٹی کے ترجمان حسن الدغیم کے مطابق پورے ملک سے مجموعی طور پر 4000 افراد نے کانفرنس میں شرکت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں