لبنان کی عسکری شناخت رکھنے والی سب سے بڑی سیاسی جماعت حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ نئی حکومت کو اعتماد کا ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب پارلیمان میں اعتماد کے ووٹ کی تیاری ہے اور لبنانی حکومت اسلحہ پر ریاستی اجارہ داری اور ملک کو علاقے میں غیر جانبدار رکھنے کا عزم کیے ہوئے ہے۔
حزب اللہ کے پارلیمانی لیڈر محمد رعد نے کہا 'ہم نے حکومت کو یہ یقین دلایا ہے کہ ہمارے اعتماد کا ووٹ ان کے لیے ہوگا اور ساتھ ہی یہ امید ظاہر کی ہے کہ نئی حکومت تحفظ و بچاؤ کے لیے نئے دروازے کھولنے کے لیے آگے بڑھے گی۔ ہم اس بات کو بہت اہمیت دیتے ہیں کہ قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ ملکی استحکام کا حصول ممکن بنایا جائے اور اصلاحات کے ذریعے ملک کو آگے بڑھایا جائے۔'
محمد رعد پارلیمان کے دو روزہ سیشن سے منگل کے روز خطاب کر رہے تھے۔
حزب اللہ لبنان کی سب سے بڑی اور عسکری قیادت رہ چکی ہے۔ تاہم حالیہ اسرائیلی جنگ کے دوران حزب اللہ کو بہت بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے جو اس کے لیے بہت بڑے دھچکے کا باعث بنا ہے۔
اسرائیلی بمباری کے دورن حزب اللہ سربراہ سمیت کئی اہم کمانڈر ہلاک ہوگئے۔ حزب اللہ کا ہیڈکوارٹر تباہ ہوگیا جبکہ بہت ساری تباہی بیروت میں دیکھنے میں آئی۔ جس کے بعد لاکھوں لوگوں نے نقل مکانی کی۔
نئے وزیر اعظم نواف سلام نے اس موقع پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی خودمختاری اور علاقائی وحدت کے لیے حکومت اپنی افواج کے ساتھ خود ہی ذمہ داریاں نبھائے گی۔
انہوں نے اس امر کا بھی اظہار کیا کہ فوج کو لبنان کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں پر تعینات کیا جائے گا اور ان کا کہنا تھا کہ اس امر کی ضرورت ہے کہ صدر جوزف عون کے اس سلسلے میں منصوبے کو آگے بڑھایا جائے اور ریاستی تحفظ ریاستی فوج کے ذمہ کیا جائے اور اسلحہ و جنگ کا فیصلہ اور امن کا فیصلہ یہ صرف ریاست کرے۔
واضح رہے حزب اللہ واحد گروپ ہے جو اسلحہ رکھتا ہے اور جو پچھلی کئی جنگوں کا حصہ رہ چکا ہے۔ حتیٰ کہ لبنان میں خانہ جنگی کا بھی حصہ رہ چکا ہے۔ اس کی بڑی جنگیں سال 2000 اور 2006 میں اسرائیل کے خلاف لڑی گئی تھیں۔
لبنان کو غیر جانبدار بنانا
حکومت کے وزارتی بیان میں منگل کے روز یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسرائیل کے زیر قبضہ تمام لبنانی علاقوں کو آزاد کرایا جائے اور ان 5 سٹریٹیجک پوائنٹس جن کو اسرائیل نے اپنے قبضے میں لے رکھا ہے ان کو اسرائیل سے واپس لیا جائے۔ جبکہ اسرائیل کی فوج لبنانی علاقوں سے انخلاء مکمل کرے۔
محمد رعد نے کہا 'اسرائیل کی حالیہ جنگ کا مقصد اس کے خلاف حزب اللہ کی مزاحمت کو ختم کرنا ہے اور اس کی یہ کوشش ناکام ہوگئی ہے۔'
خیال رہے لبنان کی نئی حکومت نے اسرائیلی بمباری اور جنگ کے دوران تباہ کیے گئے علاقوں کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کا وعدہ کیا ہے اور پچھلے پانچ سال سے مشکل حالات میں گھری معاشی حالت کو بھی سنبھالا دینے کی امید دلائی ہے۔
نیز یہ بھی وزارتی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ہم ایک ایسی خارجہ پالیسی چاہتے ہیں جو مزاحمتی گروپوں کے تصادم میں لبنان کو غیر جانبدار رکھے اور لبنان کے عرب و دوست ممالک پر حملے کے لیے لبنان کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔
یاد رہے حزب اللہ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف ایرانی مزاحمتی محور کا ایک اہم کھلاڑی رہا ہے اور لبنان میں حزب اللہ کو اس حوالے سے خوب پہچانا جاتا ہے۔