"عدالتی مشورہ‘‘ جواد ظریف نے اپنے استعفیٰ کی وجہ بتا دی

ایرانی صدارتی معاون نے کہا استعفیٰ کا مقصد مسعود پیزشکیان کی انتظامیہ پر دباؤ کم کرنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی صدر کے معاون برائے سٹریٹجک امور محمد جواد ظریف نے پیر کے روز کہا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے سے استعفی صدر مسعود پیزشکیان کی انتظامیہ پر دباؤ کم کرنے کے لیے عدلیہ کے سربراہ کے مشورے کے بعد دیا ہے۔ وہ اپنے استعفی کے بعد پہلی مرتبہ بات کر رہے تھے۔

جواد ظریف نے پیر کی صبح ’’ ایکس‘‘پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ وہ گزشتہ ہفتہ کو عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجی کی دعوت پر گئے اور ان سے ملاقات کے دوران انہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے وہ (تعلیم کے لیے ) یونیورسٹی کی طرف واپس آئیں اور انتظامیہ پر مزید دباؤ سے گریز کریں۔

جواد ظریف نے اپنی پوسٹ میں اس امید کا اظہار کیا کہ میرے عہدہ چھوڑ نے سے عوام کی مرضی اور انتظامیہ کی کامیابی کی تکمیل میں رکاوٹ ڈالے جانے کا کہنے والوں کے بہانے ختم ہوجائیں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ انہیں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی حمایت پر اب بھی فخر ہے۔

جواد ظریف نے اپنی ’’ ایکس‘‘ پوسٹ میں مزید کہا کہک میں نے اپنے اور اپنے خاندان کے افراد کے خلاف انتہائی خوفناک توہین آمیز باتوں، بہتان اور دھمکیوں کا سامنا کیا۔ اس دوران میں اپنی چالیس سالہ سروس کے بدترین دور سے گزرا۔ سرکاری نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ جواد ظریف کا استعفیٰ صدر مسعود پیزشکیان کو بھیجا گیا تھا لیکن انہوں نے ابھی تک اس کا جواب نہیں دیا۔

جولائی میں اقتدار سنبھالنے والے مسعود پیزشکیان نے یکم اگست کو جواد ظریف کو نائب صدر برائے سٹریٹجک امور کے عہدے پر تعینات کیا تھا لیکن جواد ظریف نے اس ماہ کے آخر میں اس عہدے پر واپس آنے سے پہلے دو ہفتے سے بھی کم عرصے بعد استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اس دن تصدیق کی تھی کہ انہیں دباؤ کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کے دو بیٹے امریکی شہریت کے ساتھ ساتھ ایرانی شہریت رکھتے ہیں۔

یاد رہے جواد بین الاقوامی میدان میں ان مذاکرات میں نمایاں کردار کی بدولت مشہور ہوئے جس کی وجہ سے 2015 میں ایران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی معاہدہ طے پایا۔ لیکن یہ معاہدہ عملی طور پر تین سال بعد اس وقت ختم ہو گیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور میں امریکہ نے اس سے یکطرفہ دستبرداری اختیار کرلی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں