شام کی وزارت دفاع میں تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر علی الرفاعی نے کہا ہے کہ ایران اور حزب اللہ سابق حکومت کی باقیات کے ذریعہ ملک میں سلامتی کو برباد کرنے کے پیچھے ہیں۔
ان کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب سلامتی فورسز اور سابق صدر بشار الاسد کے وفادار عسکریت پسندوں کے مابین خونی جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں۔
علی الرفاعی نے "العربیہ" سے گفتگو میں کہا کہ یہاں ایسی دشمن جماعتیں موجود ہیں جو موجودہ وقت میں پرانی ویڈیوز کے ذریعے ملک کی شبیہہ کو بدنام کرنے کی کوششوں کو تیز کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم شہری امن کے خواہشمند ہیں اور معاشرتی تانے بانے کو غیر مستحکم کرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا شامی ریاست نے ساحل میں سابق حکومت کی باقیات اور حالیہ قتل میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے دوسری مہم شروع کی ہے۔
آزاد کمیٹی تشکیل
شامی صدارت نے اتوار کو کہا ہے کہ شام نے ساحل کے علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کی تحقیقات کے لئے ایک آزاد کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ "العربیہ" کے نمائندے نے اطلاع دی تھی کہ حکام نے شہریوں کے خلاف تشدد کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا شروع کردی ہے۔ سرچ آپریشن کے دوران شامی حکومت نے کئی افراد کو گرفتار کیا۔ یہ وہ افراد تھے جنہوں نے گذشتہ دنوں میں تخریب کاری کی تھی۔
-
اسرائیل کو شام میں شہریوں کی ہلاکت پر تشویش ، یورپ سے نوٹس لینے کا مطالبہ
غزہ میں 48000 سے زائد فلسطینیوں کے قتل عام کے بعد جنگ بندی سے گزرنے والے اسرائیل ...
مشرق وسطی -
اقوام متحدہ : شام میں شہری ہلاکتوں کو فوری روکا جائے
اقوام متحدہ نے زور دے کر کہا ہے کہ شام کے شمالی علاقے میں بعض خاندانوں کی ہلاکتوں ...
مشرق وسطی -
شام میں جھڑپیں جاری؛ ہمیں مشکلات کا اندازہ تھا: احمد الشرع
نئے حکمرانوں سے منسلک افواج اور علوی فرقے میں بدترین تشدد جاری
مشرق وسطی