کھانوں کی نسل در نسل روایت - سعودی افطار میں ثقافت کا لطف
ماہ مقدس کے دوران خاندانی وراثت کے ذوق پر عرب نیوز کی خصوصی گفتگو
رمضان کے دوران سعودی عرب میں ایک بار پھر روایتی پکوان کھانے کی میزوں پر نظر آنے لگے ہیں کیونکہ بہت سے خاندان افطار کے لیے اپنے علاقے کے مخصوص کھانے تیار کرتے ہیں۔
مملکت کے طول و عرض میں کھانے کی میزوں پر مقدس مہینے کے دوران بہت زیادہ تنوع آتا ہے کیونکہ خاندان کی کھانے کی روایات نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہیں۔
رمضان اور ان روایتی پکوانوں کے درمیان تعلق اگرچہ رسم و رواج سے منسلک ہے لیکن ان کی غذائیت بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اکثر توانائی بحال کرنے والے اجزاء مثلاً گوشت اور سبزیوں سے بھرپور یہ کھانے ضروری غذائی اجزاء فراہم کرتے ہیں جو تمام دن روزے کے بعد جسم کو ضروری غذائیت فراہم کرتے ہیں۔
مملکت کے کُلنری آرٹس کمیشن کے مطابق شمالی سرحدوں میں الخمیعہ ایک مشہور کھانا ہے جبکہ مشرقی صوبہ اپنے ہریس (دھیمی آنچ پر تیار کردہ گندم اور گوشت کا پکوان) کے لیے مشہور ہے۔
ریاض کا خاص الخاص پکوان مرقوق (گوشت، پیاز اور مصالحہ دار شوربے کے ساتھ پتلا آٹا) ہے جبکہ قصیم اپنی التاوۃ پیسٹری کے لیے مشہور ہے۔
تبوک میں المفروکہ (کھجور، شہد اور مکھن کے ساتھ آٹا) ایک مقبول انتخاب ہے جبکہ جازان پیاز اور مصالحہ جات کے ساتھ پکی ہوئی مکشن مچھلی کے لیے مشہور ہے۔
حائل البثیث (کھجور کے پیسٹ کے ساتھ آٹے کے گیند نما لڈو) پیش کرتا ہے اور عصیر تسابی (آٹے، دودھ اور چینی کا مرکب) کے لیے معروف ہے۔
نجران میں الوفد اور المراق (آٹے کے لڈو) جبکہ مکہ اپنے سرخ جو کے سوپ کے لیے پہچانا جاتا ہے۔ مدینہ میں ایک مشہور روایتی مشروب سوبیا جو یا جئی سے بنایا جاتا ہے۔
الباحہ اپنی مراقہ روٹی کے لیے جبکہ جوف ساج روٹی کے لیے معروف ہے جو ایک بے خمیری روٹی ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان روایتی کھانوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔
مریم العوفی نے کہا، "اس دور میں رہنا جہاں ہر کوئی سوشل میڈیا کے رجحانات برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہو اور مقابلہ کرنا کہ 'یہ کس نے بہتر کیا'، اس کے ساتھ ساتھ تصاویر کا اشتراک ایک بڑا محرک ہے۔ لیکن میں اس سے انکار نہیں کر سکتی کہ پرانی یادیں اور جذباتی تعلق بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔"
مغربی سعودی عرب کی ایک ماں اور بیٹی لوزا المہدی اور ایمان الحسینی کا خیال ہے کہ یہ پکوان اہم یادوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
"ہم خواہ کتنی ہی نئی تراکیب آزما لیں لیکن روایتی پکوان ایک خاص مقام رکھتے ہیں کیونکہ وہ ہمیں بچپن کی یادوں اور ماضی سے مربوط کرتے ہیں۔"
رمضان المبارک کے دوران ایک اہم چیز جو ہمیشہ ضروری ہوتی ہے وہ ہے معمول، ایک کھجور بھری پیسٹری جو گہری ثقافتی اور روحانی اہمیت رکھتی ہے۔
المہدی نے کہا: "کوئی رمضان المبارک معمول کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ یہ ایسی چیز ہے جو پورے خاندان کو ملاتی ہے۔"
ٹک ٹاک اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز سے روایتی تراکیب کا اشتراک اور انہیں محفوظ کرنا آسان ہو گیا ہے۔
العوفی نے کہا، "سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز دیکھ کر ہمارا دل چاہتا ہے کہ ان پکوانوں کو دوبارہ آزمائیں اور معدوم ہو جانے والی تراکیب واپس لائیں۔"
بہت سے لوگوں کے لیے رمضان میں کھانا پکانا خاندانی میراث ہے۔ العوفی نے کہا، "خاندان چاہیں تو روایت جاری رکھیں اور اسے آئندہ نسلوں تک پہنچائیں یا اسے صرف دفن کر دیں۔"
بعض لوگوں کے لیے کچھ پکوان گہری جذباتی اہمیت رکھتے ہیں۔ العوفی نے بتایا: "میری دادی کھانے کے بارے میں بہت محتاط تھیں خاص طور پر جب بات لقیمت کے سائز اور شکل کی ہو۔"
اسی طرح الحسینی نے ایک ڈش کے بارے میں بتایا جو ان کے دل کے قریب ہے: "رمضان کے دوران جو اہم ترین پکوان میں بناتی ہوں اور میرے بچے اسے پسند کرتے ہیں، وہ ہے جیب التاجر (سوداگر کی جیب)۔"
کُلنری آرٹس کمیشن نے متعدد تقریبات اور تہواروں کا انعقاد کر کے روایتی پکوانوں کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جو سعودی ثقافتی پکوانوں کو نمایاں کرتے ہیں۔
کمیشن نے تیاری کے طریقوں اور ثقافتی روایات کو بھی دستاویزی شکل دی ہے۔ کاروباریوں کی معاونت اور کتابیں اور ویڈیوز شائع کی ہیں جو روایتی کھانوں میں دلچسپی پیدا کرنے میں مدد کرتی ہیں۔
روایتی بازار اور ریستوراں بھی ان پکوانوں کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ زائرین کو مستند ذائقوں کا تجربہ کرنے اور نسل در نسل روایتی کھانے کی ثقافت کو فروغ دینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
کُلنری آرٹس کمیشن سوشل میڈیا اور اپنی ویب سائٹ پر خصوصی مواد پوسٹ کر کے رمضان کے دوران وراثتی کھانوں کو فروغ دیتا ہے۔
اس میں رمضان کے روایتی پکوان، ان کی تیاری کے طریقے، تاریخی ماخذ اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرنا شامل ہے۔
کمیشن اس علم کو لوگوں تک پہنچا کر کمیونٹی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران سعودی کھانے کی ثقافت کی تعریف اور اسے محفوظ کریں۔