سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایات کے مطابق 14 صدیوں پرانی مسجد کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ مسجد دور نبویﷺ کی تاریخی حیثیت کی حامل ہے۔
ولی عہد نے اس مسجد کو وسعت دینے اور اس کی تزئین نو کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ تاکہ الاعظم مسجد کو العلا میں نئے انداز سے بحال کیا جا سکے۔ یہ بات سعودی پریس ایجنسی 'ایس پی اے' نے بتائی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے سے تعلق ہونے کی وجہ سے اس مسجد کی خاص اہمیت ہے۔ اس مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جنگ تبوک کے لیے جاتے ہوئے نو ہجری میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسجد میں نماز پڑھائی تھی۔
مسجد کی تزئین نو اور مرمت و تعمیر نو میں مدینہ کے روایتی فن تعمیر کو فالو کیا جا رہا ہے اوراس مسجد میں ایک وقت میں 580 لوگ نماز ادا کر سکیں گے۔
مساجد کی مرمت و تزئین میں قدرتی میٹیریل کا استعمال جس میں کلے، پتھر اور لکڑی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ لکڑی کے لیے مقامی درختوں کا استعمال ترجیح ہے۔
مسجد کی اندرونی دیواروں پر تاریخی طور پر پتھر لگے ہوئے ہیں۔ تاہم پچھلی کئی صدیوں میں مسجد میں کئی تبدیلیاں بھی آئی ہیں۔
مسجد کی بحالی کے لیے جاری کوششوں کا ایک پہلو یہ ہے کہ مختلف سائزوں میں پتھر کاٹ کر انہیں کلے کی مدد سے جوڑا جا رہا ہے۔ کھجور کے درختوں کے اجزاء کو چھتوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ کھجور کے درخت چھتوں کی انسولیشن کے علاوہ ڈھانچے کو قائم رکھنے کے لیے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
تعمیرات و بحالی کی یہ کوششیں سعودی عرب کی کمپنی جس کا پرانے تہذیبی ورثے کی بحالی اور قدیم فن تعمیر سے گہرا تعلق ہے وہ کر رہی ہے۔
سعودی عرب کے 13 مختلف علاقوں میں 30 قدیمی مساجد کی بحالی کا کام جاری ہے جن میں سے ایک الاعظم مسجد ہے۔ مساجد کی بحالی کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے۔