حوثیوں پر حملہ "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کا صرف آغاز ہے: امریکہ کی ایران کو وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف امریکی کارروائی صرف ایران پر "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی اس حکمت عملی کا صرف آغاز ہے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا یہ ایک مضبوط اشارہ ہے اور یہ پچھلی انتظامیہ کی پالیسیوں سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔

سکاٹ نے این بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ حوثیوں اور ایران کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ صرف ایک آغاز ہے جس سے عالمی تجارت میں کمی آئے گی اور افراط زر کے دباؤ میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دو ہفتے قبل ٹرمپ نے ایران کے خلاف 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' کی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر تک کم کرنا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ حوثیوں پر امریکی حملے ایران کے لیے حوثیوں کی حمایت بند کرنے کا انتباہ ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز نے کہا ہے کہ یمن میں حوثیوں پر امریکی حملے ایران کے لیے ایک "انتباہ" ہیں کہ وہ اس اس گروپ کی بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں کی حمایت بند کردے۔ والٹز نے فاکس نیوز کو ایک بیان میں کہا کہ ہم نے انہیں زبردست طاقت سے مارا ہے ۔ ہم نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ بہت ہو چکا ہے۔

ٹرمپ نے ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کو ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے ایرانی ایٹمی معاملہ پر مذاکرات کرنے کی تجویز پیش کی اور ساتھ ہی دھمکی دی کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو تہران کے خلاف "فوجی" کارروائی کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں