اسرائیل کی جانب سے منگل کو غزہ کی پٹی میں دوبارہ فوجی آپریشن شروع کرنے کے بعد وائٹ ہاؤس نے حماس کو قیدیوں کی رہائی سے انکار پر جنگ کی طرف جانے کا الزام عاید کیا۔
امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان برائن ہیوز نے ایک بیان میں کہا کہ حماس جنگ بندی میں توسیع کے لیے یرغمالیوں کو رہا کر سکتی تھی لیکن اس نے جنگ بندی کی تجویز مسترد کرکے جنگ کا انتخاب کیا ہے۔
"جہنم کے دروازے"
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ تل ابیب نے منگل کو غزہ پر اپنے فضائی حملوں کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ سے مشاورت کی ہے۔
اس نے فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہاکہ "حماس، حوثی، ایران، اور کوئی بھی قوت جو اسرائیل اور امریکہ کو دہشت زدہ کرنا چاہتی ہے، اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور ان پر جہنم کے دروازے کھل جائیں گے"۔
فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ منگل کے روز غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 400 سے زائد افراد مارے گئے، جس سے دو ماہ پرانی جنگ بندی مکمل طور پر ختم ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ اسرائیل نے علاقے میں ابھی تک قید اپنے یرغمالیوں کو آزاد کرانے کے لیے مزید طاقت کے استعمال کا عزم کیا ہے۔
-
غزہ میں ایک قیدی کی ہلاکت کی اطلاعات، اسرائیلیوں کی نیتن یاہو سے "رک جانے" کی اپیل
اسرائیل کی جانب سے فلسطین کی پٹی پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کے بعد غزہ میں قید ایک ...
بين الاقوامى -
غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں: سعودی عرب
سعودی عرب نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے دوبارہ جارحیت مسلط کرنے کی شدید مذمت ...
بين الاقوامى -
غزہ میں نئے سرے سے جاری کشیدگی کو فوری طور پر روکا جائے:یورپی یونین
غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد جن میں تقریباً 400 ...
بين الاقوامى