اسرائیلی فوج نے اتوار کی رات جنوبی غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال پر حملہ کیا جس میں ایک شخص ہلاک اور دیگر زخمی ہو گئے اور وسیع پیمانے پر آگ لگ گئی، یہ بات علاقے کی وزارتِ صحت نے بتائی۔
وزارت نے کہا کہ اس حملے میں خان یونس شہر میں ناصر ہسپتال کی سرجیکل عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل نے گذشتہ ہفتے غزہ میں فضائی حملوں کی ایک غیر متوقع لہر کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع کر دی جس سے یہ چند دن قبل ہلاک شدگان اور زخمیوں سے بھر گیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے ہسپتال پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس نے وہاں کام کرنے والے حماس کے ایک مزاحمت کار کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری حماس پر عائد کرتا ہے کیونکہ وہ گنجان آباد علاقوں میں کام کرتی ہے۔
وزارتِ صحت نے اتوار کو کہا، اس جنگ میں اب تک 50,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے منگل کے روز جنگ بندی ختم ہونے کے بعد سے درجنوں مزاحمت کاروں کو "ختم" کر دیا ہے۔ اس دوران 17 ماہ کی جنگ کے ایک مہلک ترین دن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو پر غصے کے ساتھ غزہ اور سیاسی مسائل پر اسرائیل کی بے چینی میں اتوار کو اضافہ ہوا کیونکہ ان کی حکومت نے اٹارنی جنرل کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ دیا جو کئی لوگوں کی نظر میں ان کے اتحاد کی طاقت برقرار رکھنے کے لیے تھا۔
نیتن یاہو کے دفتر کے باہر سینکڑوں مظاہرین میں سے ایک ایوٹل ہالپرین نے کہا، "میں اس ملک کے مستقبل کے لیے پریشان ہوں۔ اور مجھے لگتا ہے کہ اب یہ سب ختم ہو جانا چاہیے۔ ہمیں سمت بدلنا ہو گی۔" پولیس نے بتایا کہ تین افراد کو گرفتار کیا گیا۔
'فائرنگ کی زد میں نقلِ مکانی'
اسرائیلی فوج نے ہزاروں فلسطینیوں کو جنوبی شہر رفح میں وسیع طور پر تباہ شدہ تل السلطان محلے سے چلے جانے کا حکم دیا۔ وہ پیدل چل کر مواصی پہنچے جو بدحال خیموں کا ایک وسیع و عریض علاقہ ہے۔ جنگ نے غزہ کی 20 لاکھ سے زیادہ آبادی کو اکثر کئی بار علاقے سے بھاگنے پر مجبور کیا ہے۔
اپنے خاندان کے ساتھ جانے والے ایک صحافی مصطفیٰ گیبر نے کہا، "یہ فائرنگ کی زد میں ہونے والی نقلِ مکانی ہے۔" انہوں نے بتایا کہ قریب ہی ٹینک اور ڈرون فائر کی آوازیں سنائی دیں۔
بے گھر امل نصر نے بھی کہا، "گولے ہمارے درمیان گر رہے ہیں اور گولیاں ہمارے اوپر (سے گذر رہی) ہیں۔ بزرگوں کو سڑکوں پر پھینک دیا گیا ہے۔ ایک بوڑھی عورت اپنے بیٹے سے کہہ رہی تھی، 'جاؤ اور مجھے مرنے کے لیے چھوڑ دو' ہم کہاں جائیں گے؟"
"بہت ہو گیا، ہم تھک چکے ہیں۔" بھاگتے ہوئے عائیدہ ابو شاعر نے کہا جبکہ کچھ فاصلے پر دھواں اٹھ رہا تھا۔
فلسطینی ہلالِ احمر کی ایمرجنسی سروس نے کہا کہ رفح میں حملوں کا جواب دینے والی 10 رکنی ٹیم سے اس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ ترجمان نیبل فرسخ نے کہا کہ بعض ارکان زخمی ہو گئے۔
اسرائیل کی فوج نے کہا کہ اس نے "مشکوک گاڑیوں" کے آگے بڑھنے پر فائرنگ کی تھی اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ ایمبولینس اور آگ بجھانے والے ٹرک تھے۔
غزہ شہر میں ایک خیمہ کیمپ کے قریب دھماکہ ہوا جہاں سے لوگوں کو انخلا کے لیے کہا گیا تھا۔ ایک عینی شاہد ندا حسنہ نے کہا، "میرے شوہر نابینا ہیں اور وہ ننگے پاؤں بھاگ گئے اور میرے بچے بھاگ رہے تھے۔"
حملے میں حماس رہنما ہلاک
حماس نے کہا کہ اس کے سیاسی بیورو کے ایک معروف رکن صلاح بردویل المواصی میں ایک حملے میں اپنی اہلیہ کے ساتھ ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے اس کی تصدیق کی ہے۔
جنوبی غزہ کے ہسپتالوں نے کہا ہے کہ انہیں راتوں رات ہونے والے حملوں کے بعد مزید 24 لاشیں ملی ہیں جن میں کئی خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ جنگ میں 50,021 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں وہ 673 افراد شامل ہیں جو منگل کو اسرائیل کی بمباری دوبارہ شروع ہونے کے بعد ہلاک ہوئے۔
وزارت کے جنرل ڈائریکٹر ڈاکٹر منیر البورش نے کہا کہ ہلاک شدگان میں 15,613 بچے شامل ہیں جن میں سے 872 کی عمریں ایک سال سے کم تھیں۔
وزارت اپنے اعداد و شمار میں عام شہریوں اور مزاحمت کاروں میں فرق نہیں کرتی لیکن اس کے مطابق ہلاک شدگان میں نصف سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں۔ اسرائیل نے ثبوت فراہم کیے بغیر کہا ہے کہ 20,000 کے قریب مزاحمت کاروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
جنگ بندی غیر یقینی کا شکار
جنوری میں ہونے والی جنگ بندی سے ایک سال سے زیادہ عرصے سے جاری لڑائی رک گئی۔ زیادہ تر قیدیوں کو جنگ بندی یا دیگر معاہدات کے تحت رہا کر دیا گیا ہے۔
تازہ ترین جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کے بدلے 25 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور آٹھ دیگر کی لاشوں کی واپسی عمل میں آئی۔ اسرائیلی افواج نے لاکھوں لوگوں کو گھر واپسی کی اجازت دے دی اور انسانی امداد میں اضافہ ہوا۔ پھر اسرائیل نے اس ماہ کے شروع میں غزہ کے لیے تمام رسد بند کر دی تاکہ حماس پر جنگ بندی معاہدہ تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔
فریقین کو فروری کے اوائل میں جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر مذاکرات شروع کرنے تھے جس میں حماس کو باقی ماندہ 59 قیدیوں کو رہا کرنا تھا۔ ان میں سے 35 کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے عوض مزید فلسطینی قیدیوں کی رہائی، ایک دیرپا جنگ بندی اور اسرائیل کا انخلاء ہونا تھا۔ یہ مذاکرات کبھی شروع نہیں ہوئے۔
مغربی کنارے میں نئی آبادیاں
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ اور یہودی آبادیوں کی تعمیر کے انچارج کے مطابق اسرائیلی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں موجودہ بستیوں کی ری زوننگ کر کے 13 نئی بستیاں قائم کرنے کا ایک اقدام منظور کیا ہے۔
اینٹی سیٹلمنٹ نگران گروپ پیس ناؤ نے کہا کہ اس سے آبادیوں کی تعداد 140 ہو جائے گی جنہیں بین الاقوامی برادری کی اکثریت غیر قانونی سمجھتی ہے۔ گروپ نے کہا کہ ان آبادیوں کو اسرائیل سے آزاد بجٹ ملے گا اور یہ اپنی مقامی حکومتیں خود منتخب کر سکتی ہیں۔