اسرائیلی صدر قیدیوں کی رہائی حکومتی اہم ترجیح نہ ہونے پر حیران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی صدر نے منگل کے روز کہا ہے کہ وہ اس امر پر بہت حیرت زدہ ہیں کہ غزہ میں حماس کی قید میں موجود اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اب حکومتی اہم ترجیح نہیں رہی ہے۔

یہ دوسرا موقع ہے کہ انہوں نے حکومت کی نئی جنگی پالیسیوں پر بھی تنقید کی ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ جنگ بندی معاہدہ توڑ کر جنگ شروع کرنے کے اقدام کو ناقابل تصور قرار دے چکے ہیں۔

صدر نے کہا 'میں مکمل حیرت زدہ ہو کر رہ گیا جب مجھے اچانک پتا چلا کہ قیدیوں کی رہائی کو حکومتی ترجیحات کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔' ان کا یہ بیان ان کے دفتر نے ویڈیو کی شکل میں جاری کیا۔

اضحاق ہرزوگ نے ویڈیو بیان میں کہا 'یہ ضروری تھا کہ ہم اپنے قیدیوں کو غزہ سے واپس لانے کے لیے اپنا کام جاری رکھتے تاکہ وہ اپنے گھروں میں ہوتے اور یہ کوششیں اس وقت تک جاری رہتیں جب تک آخری قیدی واپس نہ آجاتا۔'

'ہمیں کبھی بھی اس کو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہیں کرنا چاہیے۔ ایک قوم کے طور پر اسے اس وقت تک آگے رکھنا چاہیے جب تک ایک ایک قیدی اپنے گھر کو واپس نہیں پہنچ جاتا۔ یہ ہماری قومی کوشش کا حصہ ہوناچاہیے۔ '

ان کا یہ ویڈیو بیان ان کے تل ابیب میں کانفرنس سے خطاب کے حوالے سے جاری کیا گیا۔

یاد رہے اب بھی 58 اسرائیلی قیدی غزہ میں حماس کی قید میں ہیں جن میں سے 34 کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

حماس نے بھی اسرائیلی فوج کو ایک سے زائد بار خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی اندھا دھند بمباری کے نتیجے میں خود اسرائیلی قیدیوں کی جانوں کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔

تاہم اسرائیل نے جنگ کا یہ نیا دور 18 مارچ سےشروع کیا ہے اور اب تک 792 فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے۔ جبکہ مجموعی طور پر 50144 فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں۔

اسرائیلی صدر کا یہ بیان ان کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ وہ وزیراعظم نیتن یاہو کی پالیسی پر سخت پریشان ہیں اور یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ قیدیوں کی رہائی کے بغیر دوبارہ سے جنگ کس طرح شروع کر دی گئی ہے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں