یاسر عرفات کی جان بچانے والے ماہر مشیعل کی جان سرطان نے نگل لی !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی سفارت کار ماہر مشیعل کی وفات پر آج منگل کے روز بیروت میں فلسطینی سفارت خانہ سرکاری طور پر تعزیت وصول کر رہا ہے۔ مشیعل فلسطینی صدر یاسر عرفات کی اسپیشل سیکورٹی کے نمایاں ترین ارکان میں سے تھے جب وہ تونس اور رام اللہ میں تھے۔

مشیعل ہی وہ شخص ہیں جنھوں نے 1992 میں لیبیا کے صحرا میں فلسطینی صدر کا طیارہ گرنے پر اپنے مضبوط اور توانا جسم کے ساتھ یاسر عرفات کی جان بچائی تھی۔ یہ طیارہ سوڈان سے تونس جا رہا تھا۔

مشیعل سرطان کے مرض میں مبتلا تھے جس نے ان کی زندگی کے آخری ہفتوں میں ان کے جسم کو لاغر کر دیا تھا۔

یاسر عرفات کے طیارے کے دو فلسطینی ہواباز اور ایک رومانی میکینک طیارے کو لیبیا کے الکفرہ ہوائی اڈے پر اتارنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ریت کے طوفان اور گرد آلود ہواؤں کے سبب مجبورا طیارے کو صحرا میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ اس کے نتیجے میں عملے کے 3 ارکان ہلاک ہو گئے۔

یاسر عرفات اور ان کی جان بچانے والا
یاسر عرفات اور ان کی جان بچانے والا

حادثے میں یاسر عرفات اچھل کر تقریبا 30 میٹر دور جا گرے اور موت سے بچ گئے۔ طیارے کے زمین سے ٹکرانے کے وقت مشیعل نے پوری مضبوطی کے ساتھ یاسر عرفات کے جسم کو پکڑ لیا جب کہ اس وقت مشیعل کی عمر بیس سال سے زیادہ تھی۔

بیروت میں فلسطینی سفارت خانے کے ایک سفارت کار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ مشیعل ایک سائے کی طرح یاسر عرفات کے ساتھ رہے۔ وہ ان کے ساتھ فلسطینی اراضی آئے اور رام للہ میں فلسطینی صدر کی موت تک ان کے ساتھ رہے۔

مشیعل 2005 اور 2006 کے درمیان لبنان واپس آ گئے۔ انھوں نے یاسر عرفات کے ساتھ اپنے تعلق کے راز سینے میں محفوظ رکھے۔ انھوں نے کبھی عام مقامات پر اس کے بارے میں بات نہیں کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں