اسرائیلیوں کی اکثریت غزہ میں جنگ بندی کی خواہاں،ریزرو فوجیوں کا لڑنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے


انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو حکومت کے غزہ کی پٹی پر جنگ جاری رکھنے کے اصرار کے باوجود زیادہ تر اسرائیلیوں کی رائے مختلف ہے۔

قیدیوں کے بدلے جنگ بندی کی تجویز

رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق 69 فیصد اسرائیلی غزہ کے تمام قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں جنگ کے خاتمے کی حمایت کرتے ہیں۔

اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق 21 فیصد اسرائیلی ایسے جو معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں۔ اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن (کان) کے مطابق درجنوں اسرائیلی ریزرو فوجیوں نے غزہ کی پٹی میں لڑائی میں واپس آنے سے انکار کردیا۔انہوں نے کہا کہ "جنگ سے منسلک اخلاقی اور قانونی مسائل تمام جواز سے باہر ہیں"۔

براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے جمعے کے روز انکشاف کیا کہ ان فوجیوں کا تعلق اسرائیلی فوج کے میڈیکل کور سے ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر اعلیٰ عسکری قیادت کو ایک مکتوب بھیجا تھا جس پر ڈاکٹروں، پیرامیڈیکس، دماغی صحت کے اہلکاروں اور نرسوں سمیت مختلف صفوں کے طبی ماہرین نے دستخط کیے تھے۔ خط میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جنگ "دونوں طرف کے شہریوں، اسرائیلی سماجی دھارے اور ملک کی طویل مدتی بقا کو نقصان پہنچارہی ہے"۔

سروے میں شامل لوگوں کی اکثریت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ کی زمینوں پر قبضہ اور وہاں آباد کاری کا مطالبہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

حتیٰ کہ اسرائیل کے حکمران اتحاد کے حامیوں میں سے 54 فیصد اکثریت نے جنگ بندی کی حمایت کی جبکہ 32 فیصد نے اس تجویز کی مخالفت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں