سعودی عرب نے شام میں نئی حکومت کی تشکیل کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے سعودی وزارت خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ نئی حکومت بردار شامی عوام کی امنگوں کو پورا کرے گی۔
سعودی وزارت خارجہ کا بیان سعودی پریس ایجنسی نے جاری کیا۔
بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ مملکت نئی شامی حکومت کے ساتھ تعاون اور کام کرنے کی خواہاں ہے تا کہ دونوں برادر ملکوں کے بیچ اخوت پر مبنی تاریخی تعلقات اور تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دیا جا سکے۔
اسی طرح وزارت خارجہ نے نئی شامی حکومت کے لیے کامیابی اور فلاح کی دعا کا اظہار کیا۔ ساتھ یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ شامی بھائیوں کے لیے امن، استحکام اور خوش حالی کی راہ ہموار کرے۔
" نئی حکومت"
شام کے صدر احمد الشرع نے ہفتے کی شام نئی حکومت کی تشکیل کا اعلان کیا۔ انھوں نے باور کرایا کہ وہ "ایک طاقت ور اور مستحکم ریاست کی تعمیر " کے لیے پُر عزم ہیں۔
نئی حکومت میں وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور وزیر دفاع مرہف ابو قصرہ نے اپنے قلم دان برقرار رکھے۔
جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ انس خطاب کو وزیر داخلہ مقرر کیا گیا ہے۔
نئی حکومت 23 وزراء پر مشتمل ہے
نئی حکومت کا اعلان کرتے ہوئے اپنے خطاب میں صدر احمد الشرع نے کہا کہ "ہم اس وقت اپنی تاریخ میں ایک نئے مرحلے کا جنم دیکھ رہے ہیں"۔
انھوں نے مزید کہا کہ نئی حکومت ، تبدیلی اور تعمیر کی حکومت ثابت ہو گی۔
الشرع کے مطابق ہم اپنے اداروں میں بد عنوانی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔
شامی صدر نے باور کرایا کہ "ہم قومی فوج بنانے پر کام کریں گے جو ملک کی حفاظت کرے"۔
شام میں نئے حکام سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد ملک کو دوبارہ سے متحد کرنے اور اس کے اداروں کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں۔
یاد رہے کہ مسلح اپوزیشن گروپوں نے آٹھ دسمبر 2024 کو بشار الاسد کا تختہ الٹ دیا تھا۔ جنوری میں عبوری صدر اعلان کیے جانے کے بعد احمد الشرع عبوری مرحلے کی انتطامیہ کے نگراں بن گئے۔ یہ مرحلہ 5 برس تک جاری رہے گا۔
عبوری مرحلے کے بعد نئے آئین کی بنیاد پر ملک میں انتخابات کا اجرا ہو گا۔