غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ اتوار کو ایک مکان اور بے گھر افراد کو پناہ دینے والے ایک خیمے پر اسرائیلی فضائی حملے میں پانچ بچوں سمیت کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے جبکہ آج فلسطینی عید الفطر کا پہلا دن منا رہے ہیں۔
یہ حملہ اس وقت ہوا جب حماس اور اسرائیل دونوں نے ثالثین کی طرف سے ایک نئی جنگ بندی کی تجویز موصول ہونے کا اعتراف کیا جس کا مقصد تعطیل کے دوران غزہ میں دشمنی کو روکنا تھا۔
سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود بسال نے اے ایف پی کو بتایا، "خان یونس میں ایک گھر اور بے گھر لوگوں کو پناہ دینے والے ایک خیمے پر صبح سویرے اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں پانچ بچوں سمیت آٹھ جاں بحق ہو گئے ہیں۔"
اسرائیل نے جب 18 مارچ کو فلسطینی علاقے میں فضائی بمباری اور زمینی کارروائی دوبارہ شروع کی تو جنگ بندی ختم ہو گئی۔
اتوار کا فضائی حملہ اس وقت ہوا جب ثالثین - مصر، قطر اور امریکہ - نے جنگ بندی اور غزہ میں بدستور موجود اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔
حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے ہفتے کے روز بتایا کہ گروپ نے ثالثین کی پیش کردہ جنگ بندی کی ایک نئی تجویز کی منظوری دے دی تھی اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ اس کی حمایت کرے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے تجویز موصول ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ اسرائیل نے جوابی تجویز پیش کی تھی۔
تاہم ثالثی کی تازہ ترین کوششوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
یاد رہے کہ حماس کے زیرِ انتظام علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل مظالم میں غزہ میں کم از کم 50,277 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔