سعودی عرب کے کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سنٹر نے اپنی جاری کوششوں کو ٹھوس حقیقت میں بدل دیا ہے۔ یہ مرکز متنوع صحت کی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرنے والی دنیا کی صف اول کی تنظیموں میں سے ایک بن گیا ہے اور صحت کے مختلف بحرانوں میں مبتلا دنیا کے کسی بھی حصے میں فوری اپیلوں کا جواب دینے میں لیڈر کا کردار ادا کر رہا ہے۔ شاہ سلمان مرکز نے 53 ملکوں میں صحت کی دیکھ بھال کے شعبے کو سپورٹ کرنے کے لیے 642 منصوبے نافذ کیے ہیں۔ ان منصوبوں کی کل مالیت 1440955000 ڈالر یا 1.44 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔
اس سلسلے میں مرکز نے یمنی عوام کے لیے صحت کے 368 منصوبے فراہم کیے ہیں جن کی مالیت 946 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔ ان منصوبوں میں مارب گورنری اور اس کے اضلاع میں امراض چشم اور آنکھوں کی سرجری کے لیے خصوصی ہسپتال چلانے کے منصوبے، مصنوعی اعضاء کے مراکز کے لیے اس کی حمایت اور یمن کی متعدد گورنریٹس میں ہسپتالوں کی بحالی کے منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یمنی صحت کے شعبے کی مدد کے لیے آکسیجن سٹیشنوں کی فراہمی کی گئی ہے۔ یمنی صحت کے شعبے اور نئی ماؤں کو صحت کی بنیادی خدمات فراہم کرنے کے پروجیکٹس اس کے علاوہ ہیں۔
مرکز نے 72,438,000 ڈالر سے زائد مالیت کے 25 صحت کے منصوبوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے لیے بھی مدد کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ ان منصوبوں میں غزہ کی پٹی میں متاثرہ افراد کے لیے طبی سامان اور لاجسٹک سپورٹ کی توسیع کی گئی اور ہنگامی ردعمل کے لیے معاونت کے ساتھ ساتھ فلسطینی وزارت صحت کو کووڈ 19 کی وبا سے نمٹنے کے لیے طبی سامان فراہم کیا گیا۔ شاہ سلمان مرکز نے غزہ کی پٹی میں متاثرہ آبادی میں ڈائیلاسز مشینیں، کرسیاں اور دیگر سامان بھی فراہم کیا اور نصب کیا ۔ ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے کام کیا۔ مرکز نے 2023 میں شام اور ترکیہ میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں تباہی کا فوری جواب دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ 20 ہسپتالوں اور کلینکوں کی مدد سے موبائل فیلڈ میڈیکل ٹیموں پر مشتمل ایک موبائل کلینک سسٹم چلایا گیا۔ شام کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بچوں کیے غذائی فارمولوں کی تقسیم کی گئی۔ مرکز نے کوکلیئر امپلانٹس اور آڈیٹری بحالی کے لیے "سعودی سماعت" پروگرام بھی شروع کیا۔ یہ دنیا میں سب سے بڑا پروگرام ہے۔
انسانی یکجہتی
انسانی یکجہتی کے جذبے کی عکاسی کرتے ہوئے شاہ سملمان مرکز نے سعودی جڑواں بچوں کے پروگرام کو نافذ کیا ہے۔ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد پروگرام ہے۔ یہ پروگرام پوری دنیا سے جڑواں اور دھڑ جڑے بچوں کو وصول کرتا ہے اور طبی دیکھ بھال کی پوری مدت میں جڑواں بچوں اور ان کے خاندانوں کی نقل و حمل اور میزبانی کے اخراجات کے ساتھ ان بچوں کے جسموں کو الگ کرنے کا انتظام کرتا ہے۔ 1990 سے جاری اس پروگرام نے 27 ممالک سے 146 کیسز کا مطالعہ کیا اور 62 جڑے ہوئے جڑواں بچوں کو علیحدہ کرنے کے لیے آپریشن کیا۔ اللہ کے شکر سے یہ سب آپریشن کامیاب ہوئے۔
واضح رہے اپنے قیام کے بعد سے کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (KSRelief) نے دنیا بھر کے 106 ممالک میں پھیلے ہوئے مختلف اہم شعبوں میں 3,393 منصوبے نافذ کیے ہیں۔ ان کی کل مالیت 7 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
-
سعودی عرب میں شہریوں کی اوسط عمر 78 سال ہوگئی
سعودی عرب کی جانب سے زندگی کو طول دینے کے لیے اپنائی گئی صحت کی پالیسیاں صحت مند ...
بين الاقوامى -
سعودی اور امریکی وزرائے دفاع کے درمیان علاقائی صورت حال پر بات چیت
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ان کے امریکی ہم منصب پیٹ ہیگزٹ کے درمیان ...
مشرق وسطی -
معدنیات سمٹ کا آغاز؛ پاکستان کی امریکہ، چین اور سعودی عرب سے سرمایہ کاری کی امید
حکومت پاکستان کی جانب سے دو روزہ پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم آج اسلام آباد میں ...
پاكستان