اسرائیلی بمباری کے بعد امریکی شہری ایڈن الیگزینڈر کا مقدر معلوم نہیں : حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

فلسطینیوں کی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ ' القسام بریگیڈ' نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ غزہ پر کی گئی ہلاکت خیز اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ میں قید امریکی شہری ایڈن الیگزینڈر کے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔

یہ بات ' القسام بریگیڈ ' نے اس امریکی شہری کی حفاظت پر مامور محافظ کے بمباری سے جاں بحق ہوجانے کے واقعے کے بعد کہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف نے ماہ مارچ میں وائٹ ہاؤس میں رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ قید کیے گئے اس امریکی شہری کو رہائی کے بعد واپس لے آئیں گے۔ وٹکوف کو یقین تھا کہ غزہ میں قید یہ آخری امریکی شہری ہے اور اس کی رہائی امریکہ کے لیے اہم ترین ترجیح ہے۔

یہ امریکہ اور اسرائیل دونوں کی بیک وقت شہریت کا حامل ہے۔ بہت سے امریکی یہودی اسرائیل کے بھی شہری ہیں۔ اسرائیلی شہری ہونے کے ناطے یہ امریکی بھی اسرائیلی فوج کا حصہ بنتے ہیں اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جنگوں میں جھونکے جاتے ہیں۔

21 سالہ امریکی شہری ایڈن الیگزینڈر بھی انہیں اسرائیلی فوجیوں میں سے ایک ہے اور غزہ میں قید ہے۔ امریکی قیدیوں کی رہائی کے لیے امریکی نمائندے ایڈم بوہلر اس امریکی شہری کی رہائی کے لیے حماس سے براہ راست مذاکرات بھی کرچکے ہیں۔

تاہم منگل کے روز حماس کی طرف سے کہا گیا تھا کہ اسرائیل کی بمباری کے بعد سے اس عسکری دستے کے ساتھ حماس کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے جس کے پاس اس امریکی شہری کی حفاظت کی ذمہ داری ہے۔ الیگزینڈر نیو جرسی امریکہ کا رہنے والا ہے۔

القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے اسرائیلی فوج کی بمباری کو الیگزینڈر کے فلسطینی محافظ کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اس لیے قرار دیا ہے کہ ' اب الیگزینڈر کی قسمت کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں۔ ' ابو عبیدہ نے کہا ' ہم تمام اسرائیلی قیدیوں کی زندگیاں بچانے اورانہیں حفاظت میں رکھنے کی کوشش میں ہیں۔ لیکن دشمن اسرائیل کی فوج کی مجرمانہ بمباری کی وجہ سے ان قیدیوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔' تاہم اسرائیل کی طرف سے اس بیان کے بعد کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

دوسری جانب جنگ بندی سے گریزاں اسرائیل اپنے قیدیوں کی ہلاکت کا الزام فلسطینیوں پر عائد کرتا رہتا ہے۔ اس کے باوجود کہ اسرائیل کی فوج آج بھی غزہ پر بلا امتیاز بمباری کر رہی ہے۔

حماس نے 19 جنوری سے ایک معاہدے کے تحت ہونے والی جنگ بندی کے دوران 38 قیدیوں کو غزہ سے رہا کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں 18 مارچ نے اسرائیل نے جنگ بندی آگے بڑھانے کے لیے مذاکرات کے بجائے از سر نو غزہ پر جنگ مسلط کر دی۔

اس جنگی مرحلے میں بھی لگ بھگ 1700 فلسطینی غزہ میں مزید قتل کیے جا چکے ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس کی یہ جنگ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے ہے۔ مگر قیدیوں کے اہل خانہ اور سابق اسرائیلی فوجی حکام جنگ کو قیدیوں کی رہائی کے لیے جنگ کے بجائے حماس سے مذاکرات کے ذریعے معاہدے پر زور دیتے ہیں۔

پچھلے منگل کے روز حماس کے سربراہ خلیل الحیہ نے کہا تھا کہ 'حماس اسرائیل کے تمام 59 قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔ لیکن اس کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں سے فلسطینیوں کی رائی کے علاوہ اسرائیل کو جنگ بند کر کے فوجی انخلاء' کرنا ہو گا۔ ' حماس رہنما نے اسرائیل کے اس مطالبے کو مسترد کیا کہ حماس کا عسکری ونگ ہتھیار چھوڑکر بیٹھ جائے گا۔

اس بارے میں اسرائیل نے ابھی تک کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ توقع ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا اس بارے میں رد عمل جلد سامنے آ جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں