نیتن یاہو کی اپنے بیٹے کی مہندی پارٹی میں شرکت، ویڈیو نے تنازع پیدا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ میں جنگ کے خاتمے اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے بار بار کے ہونے والے مظاہروں کے درمیان اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کے خاندان کو مسلسل تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ کی اتوار کو اپنے سب سے چھوٹے بیٹے ایونر اور ان کی منگیتر کی مہندی پارٹی میں شرکت کی نئی فوٹیج سامنے آئی تو اس نے نیا تنازع پیدا کردیا۔ اسرائیلی شہریوں کی بڑی تعداد نے اس فوٹیج کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ خاص طور پر تنقید اس لیے بھی کی جارہی ہے کہ نیتن یاہو کے دفتر نے ان کی شرکت کی منسوخی کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ روز غزہ کے شمال میں بیت حانون میں فوجیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے بعد یہ اعلان کیا گیا تھا۔

لیکن نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ نے بالآخر وسطی اسرائیل کے موشاو مازور میں خاندانی تقریب میں اس وقت شرکت کی جب سینکڑوں حکومت مخالف مظاہرین نے اس چھوٹے سے گاؤں پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔ مظاہرے نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ حماس کے ساتھ معاہدہ کرکے یرغمالیوں کو رہا کرایا جائے۔

گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر اسرائیلیوں کے درمیان وسیع پیمانے پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں نیتن یاہو کو اپنے بیٹے ایونر کی منگنی کی پارٹی میں شریک دکھایا گیا ہے۔ اگرچہ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے دعویٰ کیا ہے کہ نیتن یاہو نے تقریب میں اپنی طے شدہ موجودگی کو منسوخ کر دیا ہے تاہم اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد لوگوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ لوگوں نے کہا کہ نیتن یاہو کے دفتر نے جھوٹ بولا ہے۔

تاہم بعض لوگوں نے نیتن یاہو کی حمایت بھی کی اور کہا کہ ملک میں سیاسی اور سلامتی کے ایسے حالات کے باوجود نیتن یاہو کو اپنے بیٹے کی خوشی میں شریک ہونے کا حق ہے۔ 31 سالہ ایونر اور اس کی ساتھی نے گزشتہ سال نومبر میں فیصلہ کیا تھا کہ اکتوبر 2023 میں غزہ میں شروع ہونے والی جنگ کی وجہ سے اپنی شادی جون کے وسط تک ملتوی کر دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں