لبنان: اسلحہ اخراج کو سازش قرار دینے پر ایرانی سفیر کو طلب کرلیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

لبنان کے وزیر خارجہ یوسف رجی نے لبنان میں ایرانی سفیر مجتبیٰ امانی کو طلب کیا ہے۔ ان سے اس پوسٹ کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے گی جس میں چند روز قبل انہوں نے اسلحہ کے اخراج سے متعلق بات کی تھی اور اسلحہ کی فروخت کو ایک سازش قرار دے دیا تھا۔ خود کو طلب کرنے کے فیصلے کے جواب میں ایرانی سفیر نے گزشتہ روز پریس بیانات میں وضاحت کی تھی کہ انہیں سمن کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا لیکن انہوں نے حاضر ہونے سے معذرت کر لی تھی۔ ان کے لیے ابھی کوئی نئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔

اس تناظر میں باخبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ طلب کیے جانے پر ایرانی سفیر کو وزارت خارجہ کو رپورٹ کرنا ہوگی۔ انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ کل ان کے حاضر ہونے سے معذرت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ حاضر نہیں ہوں گے۔ اس کے برعکس ایرانی سفارت خانے کے ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ سفیر نے جو کہا وہ واضح تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لبنانی وزارت خارجہ اور ایرانی سفارت خانے کے درمیان سمن کی تاریخ کا تعین کرنے کے انتظامات موجود ہیں۔

اپنی طرف سے سابق وزیر خارجہ فارس بوئیز نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا تھا کہ کوئی بھی چیز سفیر کو وزارت خارجہ میں حاضر ہونے پر مجبور نہیں کر رہی۔ تاہم انہوں نے اسی وقت یہ بھی کہا ہے کہ اس صورت میں وزارت خارجہ سفیر کی غیر موجودگی کے جواب میں دو اقدامات کر سکتی ہے، پہلا یہ ہے کہ اسے لبنانی سرزمین پر غیر مہذب شخص قرار دیا جائے اور اس لیے اسے لبنان چھوڑنے کہا کہا جائے۔ دوسرا تہران اور بیروت میں سفارتی تعلقات منقطع کردیے جائیں۔ اس حوالے سے سابق وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ صورتحال ایرانی سفیر کو ملک بدر کرنے یا سفارتی تعلقات منقطع کرنے تک نہیں بڑھے گی بلکہ ان کے بیانات پر انہیں احتجاجی خط بھیج کر معاملہ حل کر لیا جائے گا۔

سابق سمن

سابق لبنانی وزیر اعظم نجیب میقاتی نے گزشتہ سال نومبر میں وزیر خارجہ عبداللہ بوحبیب سے کہا تھا کہ وہ بیروت میں ایرانی ناظم الامور کو طلب کریں اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کے اس بیان کے بارے میں دریافت کریں کہ تہران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد کے حوالے سے فرانس کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ان کا یہ بیان لبنان کے معاملات میں صریح مداخلت اور لبنان پر ناقابل قبول سرپرستی قائم کرنے کی کوشش ہے۔

واضح رہے لبنان میں ایرانی سفیر مجتبیٰ امانی نے ’’ ایکس‘‘ پر کہا تھا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ ایک واضح سازش ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس دوران جب امریکہ صیہونی ادارے کو جدید ترین ہتھیاروں اور میزائلوں کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے وہ مختلف ممالک کو اپنی فوجوں کو مسلح اور مضبوط کرنے سے روک رہا ہے اور دوسرے ملکوں پر مختلف بہانوں سے اپنے ہتھیاروں کو کم کرنے یا تباہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایک بار جب یہ ممالک تخفیف اسلحہ کے مطالبات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں تو وہ حملے اور قبضے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ عراق، لیبیا اور شام میں ایسا ہو چکا ہے۔

یہ پیش رفت لبنانی صدر جوزف عون کی جانب سے ریاست تک ہتھیاروں کے قبضے کو محدود کرنے کے اپنے ارادے کا بار بار اعلان کرنے کے بعد ہوئی ہے۔ بعض حلقوں نے عندیہ دیا کہ وہ دفاعی حکمت عملی پر بات چیت اور ریاست کے لیے ہتھیاروں کے قبضے کو محدود کرنے کے لیے قومی مکالمے کا مطالبہ کریں گے۔ اگرچہ حزب اللہ نے ابتدائی طور پر حکومت اور صدر کے ساتھ اپنی دفاعی حکمت عملی پر بات چیت کرنے کی اپنی رضامندی کی تصدیق کی ہے لیکن بعد میں اس نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا سے قبل غیر مسلح کرنے پر کوئی بات نہیں ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں