تقریباً دو ماہ سے غزہ میں خوراک کا داخلہ بند، فلسطینی فاقوں اور شدید مشکلات کا شکار

لوگ ڈبوں میں بند خوراک کھانے پر مجبور، بچے غذائیت کی کمی کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں تقریباً دو ماہ سے کوئی خوراک، ایندھن، دوا یا دوسری چیز داخل نہیں ہونے دی۔ امدادی گروپوں کے پاس تقسیم کرنے کے لیے خوراک ختم ہو رہی ہے۔ بازار تقریباً سنسان پڑے ہیں۔ فلسطینی خاندان اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

جنوبی شہر خان یونس کے باہر پھیلے ہوئے خیمہ کیمپ میں مریم النجار اور ان کی ساس نے ایک برتن میں مٹر اور گاجر کے چار ڈبے خالی کیے اور انہیں لکڑیوں کی آگ پر ابالا۔ انہوں نے ان میں تھوڑا سا مصالحہ شامل کیا۔

چاولوں کی ایک پلیٹ کے ساتھ یہ چھے بچوں سمیت ان کے خاندان کے 11 افراد کے لیے جمعے کے دن کا واحد کھانا تھا۔

النجار نے کہا، فلسطینیوں کے لیے "جمعہ مقدس دن ہوتا ہے" جب گوشت، بھری ہوئی سبزیوں یا دیگر بھرپور روایتی پکوان کے ساتھ خاندان کافی زیادہ کھانے کا اہتمام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "اب ہم مٹر اور چاول کھاتے ہیں۔ ہم نے جنگ سے پہلے کبھی ڈبے والے مٹر نہیں کھائے تھے۔ صرف اس جنگ میں ہمیں یہ کھانا پڑ رہے ہیں جس نے ہماری زندگیاں تباہ کر دی ہیں۔"

غزہ میں تقریباً 2.3 ملین فلسطینی اب بنیادی طور پر ڈبے میں بند سبزیوں، چاول، پاستا اور دال پر گذارہ کر رہے ہیں۔ گوشت، دودھ، پنیر اور پھل غائب ہو چکے ہیں۔ روٹی اور انڈے نایاب ہیں۔ بازار میں چند سبزیاں یا دیگر اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جو زیادہ تر کے لیے ناقابلِ برداشت ہیں۔

النجار نے کہا، "ہمیں کوئی ایسی چیز نہیں مل سکتی جو پروٹین یا غذائی اجزاء فراہم کرتی ہو۔"

پھلیاں، مٹر اور روٹی چائے میں ڈبو کر کھانا

اسرائیل نے دو مارچ کو ناکہ بندی نافذ کی، پھر 18 مارچ کو دوبارہ فوجی آپریشن شروع کر کے دو ماہ کی جنگ بندی ختم کر دی۔ اس نے کہا ہے کہ دونوں اقدامات کا مقصد قیدیوں کی رہائی کے لیے حماس پر دباؤ ڈالنا ہے۔ حقوق کے گروپس ناکہ بندی کو "بھوکا مارنے کا حربہ" قرار دیتے ہیں جو پوری آبادی کے لیے خطرہ اور ایک ممکنہ جنگی جرم ہے۔

النجار نے کہا کہ کھانے پینے کی چیزیں ایک ایک کر کے غائب ہو گئی ہیں۔

جب گوشت دستیاب نہ ہوا تو النجار نے ڈبے میں بند سارڈینز استعمال کیں۔ وہ بھی نہ رہیں۔ انہیں اقوامِ متحدہ سے دودھ کی پیٹیاں ملتی تھیں جو ہفتوں پہلے ختم ہو گئیں۔ ہفتے میں ایک بار وہ اپنے بچوں کو سلاد بنا کر دینے کے لیے ٹماٹر خریدتی تھیں۔ اب وہ مہنگے ٹماٹر نہیں خرید سکتیں۔

انہوں نے کہا، اب وہ ڈبے والی پھلیاں یا مٹر اور گاجر روزانہ کھاتے ہیں۔ جب یہ نہ ملے تو وہ خیراتی باورچی خانے سے دال یا پاستا لے لیتے ہیں۔ اگر انہیں روٹی یا چینی مل جائے تو وہ اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کے لیے چائے میں ڈبو کر روٹی دے دیتی ہے۔

مریم کی ساس سمیہ النجار نے اس خوف کا اظہار کیا کہ ان کے بیٹے کے بچے بھوک سے مر جائیں گے۔ 61 سالہ خاتون نے کہا، انہیں اور ان کے شوہر کو کینسر ہے۔ انہوں نے اپنی دوا لینا بند کر دی ہے کیونکہ یہ ناقابلِ حصول ہے اور ان کا شوہر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

مریم کو فکر ہے کہ جب غزہ میں جو بچا ہے وہ ختم ہو جائے گا تو وہ اپنے بچوں کو کیسے کھلائیں گی۔

"شاید ہم ریت کھائیں گے،" انہوں نے کہا۔

غذائیت کی قلت نے بچوں کو ان کی نشوونما کے نہایت اہم وقت پر متأثر کیا ہے۔

ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کی خوراک میں تنوع، پروٹین اور دیگر غذائی اجزا کی کمی ان کی صحت کو طویل مدتی نقصان پہنچاتی ہے۔

خان یونس کے النصر ہسپتال میں علاج معالجے کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر ایمن ابو طیر نے کہا، غذائیت کی قلت کے کیسز میں "بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔" بچوں کے لیے خصوصی دودھ ختم ہو گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے کہا کہ اس نے مارچ میں غذائیت کی شدید قلت کے شکار 3,700 بچوں کی نشاندہی کی جو فروری کے مقابلے میں 80 فیصد زیادہ تھی۔

ابو طیر نے کہا، "بچوں کو نشوونما کے لیے مختلف النوع خوراک کی ضرورت ہوتی ہے: گوشت، انڈے، مچھلی اور دودھ نشوونما کے لیے اور پھل اور سبزیاں ان کے مدافعتی نظام کی تعمیر کے لیے۔ یہ غزہ میں موجود نہیں ہیں۔"

انہوں نے کہا، 10 کلو وزن (22 پاؤنڈ) والے ایک سالہ بچے کو روزانہ تقریباً 700 کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔

لیبل کی معلومات کے مطابق النجار کے جمعہ کے کھانے میں مٹر اور گاجر کے چار ڈبے کُل تقریباً 1,000 کیلوریز پر مشتمل تھے۔ ان میں چاول شامل نہیں جو انہوں نے کھائے تھے۔ یہ 11 افراد میں تقسیم ہوئے جن میں چھے سے 14 سال کی عمر کے چھے بچے بھی شامل تھے۔

اسرائیل نے پہلے کہا کہ جنگ بندی کے دوران تقسیم میں اضافے کے باعث غزہ کے پاس کافی امداد موجود تھی اور وہ حماس پر خوراک خود چھین کر لے جانے کا الزام لگاتا ہے۔ انسانی ہمدردی کے کارکنان اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ حماس نے ایسا کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ تقسیم کی سختی سے نگرانی کرتا ہے۔

خان یونس کی ایک گلی کے بازار میں حالیہ دنوں میں زیادہ تر سٹال خالی تھے۔ جو کھلے تھے، وہاں ٹماٹر، کھیرے، کٹے ہوئے بینگن اور پیاز کے چھوٹے چھوٹے ڈھیر نظر آئے۔ ایک کے پاس پھلیاں اور مٹر کے چند کھلے اور تڑے مڑے ڈبے تھے۔ چند کھلی ہوئی دکانوں میں سے ایک پر پاستا کے تھیلوں کے علاوہ شیلفیں خالی تھیں۔

ٹماٹر 50 شیکل، تقریباً 14 ڈالر فی کلو میں فروخت ہوتے ہیں جو جنگ سے پہلے ایک ڈالر سے بھی کم تھے۔

"میں ٹماٹر کھانے کا خواب دیکھتا ہوں،" ایک خالی سٹال کے سامنے کھڑے ہوئے خلیل الفقاوی نے کہا۔

انہوں نے کہا، انہیں نو افراد کو کھانا کھلانا ہے۔ بچے گوشت، مرغی، بسکٹ مانگتے ہیں۔ ہم یہ نہیں دے سکتے۔ گوشت کو تو بھول جائیں۔ ہمارے پاس دال ہے۔ یہ بھی شکر کا مقام ہے۔ جب دال ختم ہو جائے گی تو کیا ہو گا؟"

سبزیاں صرف وہ ہیں جو غزہ میں اگائی جاتی ہیں۔ اسرائیلی فوجیوں نے علاقے کے زیادہ تر کھیت اور کاشتکاری کی جگہیں تباہ کر دی ہیں یا فوجی علاقوں میں ہونے کی وجہ سے انہیں بند کر دیا ہے۔ وہاں جانے پر جان کا خطرہ ہوتا ہے۔

باقی کھیتوں کی پیداوار پانی اور رسد کی کمی کی وجہ سے کم ہو گئی ہے۔

محمود الشاعر نے کہا کہ انہیں کاشت سے اب ایک ہفتے میں زیادہ سے زیادہ 150 کلو (330 پاؤنڈ) ٹماٹر حاصل ہوتے ہیں جو جنگ سے پہلے 600 کلو (1,300 پاؤنڈ) ہوتے تھے۔

انہوں نے کہا، اور یہ بھی نہیں رہے گا۔ دو ہفتوں یا ایک مہینے میں آپ کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔"

خان یونس میں رفح کے خیراتی کچن میں دھاتی برتن پکڑے ہوئے بچوں کا ایک ہجوم تھا۔ کارکنان نے ہر ایک برتن میں ابلی ہوئی دال انڈیل دی۔

ایسے کچن ہی بازار کا واحد متبادل ہیں۔ ناکہ بندی کے باعث دیگر غذائی پروگرام بند ہو گئے۔

کچن بھی بند ہونے کا امکان ہے۔ عالمی غذائی پروگرام نے جمعہ کو کہا کہ اس نے اپنا آخری غذائی ذخیرہ 47 کچنز تک پہنچا دیا ہے جو اس کے زیرِ اتنظام ہیں جہاں چند دنوں میں خوراک ختم ہو جائے گی۔

باورچی خانے صرف دال یا سادہ پاستا اور چاول فراہم کر سکتے ہیں۔ رفح خیراتی کچن میں ہانی ابو قاسم نے کہا، انہوں نے فی کس حصہ بھی کم کر دیا ہے۔

ابو قاسم نے کہا، "یہ لوگ جو ہم پر انحصار کرتے ہیں، اگر یہ باورچی خانہ بند ہو گیا تو ان کے بھوکے مر جانے کا خطرہ ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں