سعودی عرب کے جید علمائے کرام پر مشتمل ’کبار العلماء‘ سیکرٹریٹ نے حج کے لیے سرکاری اجازت نامے کے حصول کے لیے جاری کردہ فتویٰ ایک بار پھر جاری کیا ہے تاکہ حج کے مناسک کی ادائی کے خواہاں مسلمانوں کو اس حوالے سے یاد دہانی کرائی جا سکے۔
علماء نے حج کے خواہشمندوں کے لیے اجازت نامہ حاصل کرنے کی ضرورت سے متعلق کونسل آف سینئر سکالرز کے فتوے کو دہرایا ہے جس میں باور کرایا گیا ہے کہ’بغیر اجازت کے حج کرنا شرعا جائز نہیں اور جو شخص بغیر اجازت کے حج کرے وہ گنہگار ہے‘۔
علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فہد الماجد نے کہا کہ "اس سلسلے میں سینئر علما کونسل کا فتویٰ متعدد شواہد اور شرعی اصولوں پر مبنی ہے جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ اسلامی قانون نمازیوں کے لیے عبادات کی ادائیگی میں آسانی پیدا کرنے اور ان سے مشکلات کو دور کرنے پر زو ر دیتا ہے۔اور وہ یہ بھی کہتا ہے: ’اور اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی‘۔ حج اجازت نامہ حاصل کرنے کی ذمہ داری حاجیوں کو منظم کرنے کی نیت سے لازمی کی گئی ہے جس سے حج کے عظیم الشان اجتماع کے موقعے پر عازمین میں اطمینان ،سکون اور ان کی حفاظت کی جا سکے تاکہ وہ پرسکون ماحول میں مناسک ادا کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ حج کے لیے اجازت نامہ حاصل کرنے کا عزم اسلامی قانون کے مطلوبہ مفاد کے عین مطابق ہے۔ حج کے انعقاد سے متعلق سرکاری ایجنسیاں حج کے موسم کے لیے اس کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ ایک منصوبہ تیار کرتی ہیں۔ اس منصوبے میں حجاج کرام کی سکیورٹی، صحت، رہائش اور خوراک کی فراہمی کو منظم کیا جاتا ہے۔ یہ سہولیات ان کے مجاز نمبروں سے فراہم کرنے میں سہولت ہوتی ہے۔ اس طرح عازمین حج کی تعداد جتنی زیادہ کیوں نہ ہو ان میں کوئی بد نظمی نہیں ہوگی اور انہیں فریضہ حج کی ادائی کے دوران معیاری خدمات سےمستفید ہونے کا موقع ملے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ "اور یاد رکھو کہ ہم نےبیت اللہ کو لوگوں کے لیے جمع ہونے کی جگہ اور امن کی جگہ بنایا اور مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنایا۔ اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو حکم دیا کہ میرے گھر کا طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں کے لیے پاک کرو"۔
ڈاکٹر الماجد نے مزید کہاکہ "اجازت حاصل کرنے کا عہد کرنا حق میں حاکم کی اطاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کی اطاعت کرو، رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے صاحب اختیار ہیں‘۔ ان کے علاوہ اور بہت سی نصوص موجود ہیں، جو سب کے سب اولی الامر کے حکم کی تعمیل کے حق پر دلالت کرتی ہیں۔
علما کونسل نے وضاحت کی کہ اجازت نامے کے بغیر حج کرنے سے نہ صرف خود حاجی کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ اس سے دوسرے عازمین کو بھی نقصان ہوتا ہے جنہوں نے ضوابط کی پابندی کی ہے۔ شریعت میں یہ بات ثابت ہے کہ ضرر جس کا پھیلاؤ ہو وہ معمولی نقصان سے بڑا گناہ ہے۔ متفق علیہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں‘‘۔
-
حج پر روانگی سےقبل گردن توڑبخار،فلو کی حفاظتی ویکسین لگوائیں:پاکستانی عازمینِ حج کوہدایت
پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور نے ہفتے کے روز عازمینِ حج کو سعودی عرب روانگی سے قبل ...
پاكستان -
سعودی عرب کی تیل کے علاوہ برآمدات کا 2024 میں حجم 137 ارب ڈالر ہوگیا
سعودی عرب نے اپنے ویژن 2030 کے مطابق تیل کے وسائل اور آمدنی پر اپنا انحصار کم کرنے ...
مشرق وسطی -
حج 2025 : سعودی وزارتیں محفوظ انتظامات کے لیے متحد
سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ نے حج سیزن کے لیے انتظامات کو بہتر بنانے اور سیکیورٹی ...
مشرق وسطی