اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کو کہا کہ اسرائیل کے جنگی طیاروں نے گذشتہ سال شام کی طرف بڑھنے والے ایرانی طیارے روک لیے تھے جس سے وہ اس وقت کے مورچہ بند صدر بشار الاسد کی مدد کرنے کے لیے فوجی پہنچانے سے قاصر رہا۔
ایک تقریر میں کیے گئے ان تبصروں سے الاسد کے اقتدار کے آخری دنوں میں اسرائیل کی سوچ کی ایک نئی جھلک سامنے آئی ہے۔
اسرائیل کی حامی نیوز ایجنسی جیوش نیوز سنڈیکیٹ کی منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ لبنان میں حزب اللہ کو اسرائیل کے ساتھ لڑائی میں بھاری نقصان اٹھاتے ہوئے دیکھ کر ایران الاسد کو بچانا چاہتا تھا۔
ایران شامی رہنما کی مدد کے لیے "ایک یا دو ہوائی جہاز" بھیجنا چاہتا تھا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا "انہیں الاسد کو بچانا پڑا۔"
انہوں نے کہا، "ہم نے یہ روک دیا۔ ہم نے دمشق کے راستے پر جانے والے بعض ایرانی طیاروں کے لیے کچھ ایف-16 بھیجے۔ ایرانی طیارے دستبردار ہو گئے۔"
انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
گذشتہ سال لبنان میں پیجرز اور واکی ٹاکیز میں ہونے والے دھماکوں کے بارے میں نیتن یاہو نے ہجوم کو بتایا کہ جب اسرائیل کو معلوم ہوا کہ حزب اللہ مشکوک ہو گئی تھی اور اس نے کچھ آلات جانچ کے لیے ایران بھیجے تھے تو انہوں نے پیجر حملے کیے۔
انہوں نے کہا، "میں نے کہا، 'ہمیں یہ ابھی کرنا ہو گا'۔"
اسرائیل اور حزب اللہ میں نومبر میں جنگ بندی ہوئی جس سے ایک سال سے زیادہ کی لڑائی ختم ہو گئی۔ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے بعض حصوں میں بدستور موجود ہیں۔
-
سعودی عرب اور قطر شام کے ذمے عالمی بینک کا قرض ادا کریں گے
سعودی عرب اور قطر عالمی بینک کو شام کے تقریباً 15 ملین ڈالر کے بقایا جات ادا کرنے ...
مشرق وسطی -
انڈونیشیا 'برکس' میں شامل ہو گیا، انڈونیشین وزیر خارجہ کی اجلاس میں بطور رکن شرکت
انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سیگیانو 'برکس اجلاس ' میں بطور ممبر انڈونیشیا کی نمائندگی ...
بين الاقوامى -
شام : نئی حکومت نے کردوں کا عدم مرکزیت کا مطالبہ مسترد کر دیا
شام کی نئی حکومت نے کردوں کا خود مختاری دینے اور عدم مرکزیت پر مبنی نظام لانے کا ...
مشرق وسطی