ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی آج ہفتے کے روز سعودی عرب اور قطر کے اہم دورے پر روانہ ہوں گے، جس کا اعلان ایرانی وزارت خارجہ نے ایسے وقت کیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے مشرق وسطیٰ کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جمعہ کو اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ عباس عراقچی سب سے پہلے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض جائیں گے، جہاں وہ سعودی حکام سے ملاقات کریں گے اور ان سے اہم امور پر بات چیت کریں گے۔
بیان کے مطابق عراقچی ریاض کے بعد قطر کا بھی دورہ کریں گے، جہاں وہ "عرب-ایرانی مکالمہ کانفرنس" میں شرکت کریں گے، جو خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
مذاکرات کے چوتھے دور کی تیاری
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب توقع کی جا رہی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایٹمی تنازع پر چوتھے دور کی بالواسطہ بات چیت اتوار کے روز عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہو گی۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی آئندہ ہفتے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے دورے پر جائیں گے۔ ان کا یہ دورہ ایران کے ساتھ کشیدہ تعلقات، خطے میں امریکی اثرورسوخ اور سکیورٹی کے معاملات کے پس منظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
-
امریکی ایلچی کا ایران سے یورینیم کی افزودگی کی تنصیبات ختم کرنے کا مطالبہ
ایران کی یورینیم کی افزودگی ہماری ریڈ لائن، تہران کے پاس امریکی شرائط قبول کرنے کے ...
بين الاقوامى -
جوہری مذاکرات کی کبھی مخالفت نہیں کی، مگر مذاکرات کے بھی اصول ہوتے ہیں:ایرانی اسپیکر
ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کے چوتھے دور سے قبل جو اتوار کو عمان کے ...
مشرق وسطی -
ایران کے حوالے سے خوف پھیلانے کے لیے باقاعدگی سے سیٹلائٹ تصاویر جاری ہوتی ہیں: عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان تصاویر کو بے بنیاد قرار دیا ہے جو گذشتہ روز ...
بين الاقوامى