ایران کے حوالے سے خوف پھیلانے کے لیے باقاعدگی سے سیٹلائٹ تصاویر جاری ہوتی ہیں: عراقچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان تصاویر کو بے بنیاد قرار دیا ہے جو گذشتہ روز شمالی ایران میں ایک نا معلوم جوہری تنصیب کے انکشاف کے حوالے سے جاری کی گئی تھیں۔

جمعہ کے روز "ایکس" پلیٹ فارم پر ایک ٹویٹ میں عراقچی نے کہا کہ "ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے ساتھ ہی مصنوعی سیاروں سے لی گئی مزید تصاویر شائع کی جا رہی ہیں تاکہ خوف و ہراس پھیلایا جا سکے"۔

انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عراقچی کا کہنا تھا کہ "اس (نیتن یاہو) کے پاس اب کوئی ساکھ باقی نہیں رہی، اور وہ اب بھی سابق صدر ٹرمپ پر اپنی شرائط مسلط کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے"۔

عراقچی نے مزید کہا کہ " ایسا لگتا ہے جیسے یہ مصنوعی سیاروں کی تشویش ناک تصاویر جوہری مذاکرات کے قریب آتے ہی گھڑی کی سوئیوں کی طرح باقاعدگی سے شائع کی جاتی ہیں"۔

عراقچی نے اپنی ایک پرانی ٹویٹ بھی دوبارہ شیئر کی، جو انھوں نے 24 اپریل کو اس وقت کی تھی جب اس طرح کی رپورٹیں موصول ہو رہی تھیں کہ ... ایران نے نطنز کے جنوبی علاقے میں ایک نئی جوہری تنصیب کو مضبوط بنا لیا ہے۔ اس ٹویٹ میں بھی ایرانی وزیر خارجہ نے اسرائیل پر امریکی مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکی نیوز چینل "فوکس نیوز" نے گذشتہ روز چند ایسی تصاویر جاری کی تھیں جن کے متعلق دعویٰ کیا گیا کہ وہ شمالی ایران میں واقع ایک نا معلوم جوہری تنصیب کی ہیں۔

نامعلوم جوہری تنصیب

دوسری جانب "ایرانی قومی مزاحمتی کونسل" نے دعویٰ کیا ہے کہ اندرونی ذرائع سے حاصل کردہ خفیہ معلومات کے مطابق ایران میں تقریباً 2500 ایکڑ پر محیط ایک وسیع و عریض جوہری کمپلیکس موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس مقام کا بنیادی مقصد ٹریٹیم نامی تابکار مادّہ نکالنا ہے، جو ایٹمی ہتھیاروں کی تباہ کن طاقت بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام اس مقام کو "رینبو" (یعنی قوس قزح) کے نام سے جانتے ہیں، اور یہ جگہ "دیبا انرجی سیپا" نامی ایک کیمیائی کمپنی کی آڑ میں گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کام کر رہی ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جہاں یورینیم کو شہری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، وہیں ٹریٹیم کا کوئی معروف پُر امن یا تجارتی استعمال موجود نہیں۔

یاد رہے کہ 12 اپریل سے ایران اور امریکہ کے درمیان عمان کی ثالثی میں جوہری معاملے پر بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔ اب تک تین دور ہو چکے ہیں۔ ان میں دو مسقط اور ایک روم میں ہوا، فریقین نے ان ادوار کو مثبت اور تعمیری قرار دیا ہے۔

چوتھے دور کی میزبانی اتوار کے روز سلطنت عمان کرے گی، جہاں ایرانی وفد کی قیادت عباس عراقچی کریں گے جب کہ امریکی وفد کی سربراہی اسٹیو وٹکوف کے ذمے ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں