سعودی عرب میں نیوم منصوبے کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو ریان فائز نے بتایا ہے کہ نیوم میں مصنوعی ذہانت کی اگلی جنریشن کے بنیادی ڈھانچے کے لیے پانچ ارب ڈالر کی تزویراتی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ ایک جدید ترین ڈیجیٹل ماحول قائم کیا جا سکے۔
یہ بات انھوں نے آج منگل کے روز سعودی-امریکی سرمایہ کاری فورم کے دوران ایک مذاکرے میں کہی۔ ریان کا کہنا تھا کہ نیوم نے اس اہم شعبے میں مضبوط بنیاد رکھ دی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر سے نجی اور تجارتی سرمایہ کار راغب ہوئے ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ امریکا اس میدان میں کلیدی شراکت دار ہے، اور کئی امریکی کمپنیوں نے نیوم میں بڑی سرمایہ کاری کے وعدے کیے ہیں۔
ریان فائز نے کہا کہ "ہم صرف ایک اسمارٹ سٹی یا اقتصادی زون نہیں بنا رہے، بلکہ ہم عالمی سطح پر سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کے ماڈل کو از سر نو تشکیل دے رہے ہیں، جو کہ نجی شعبے کے بڑھتی ہوئے اعتماد اور مضبوط شراکت داری سے ممکن ہوا ہے"۔
انھوں نے بتایا کہ نیوم میں ایک ارب ڈالر کی لاگت سے تکنیکی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے بھی جاری ہیں۔ اس منصوبے کا رقبہ 26,500 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، جو تقریباً امریکی ریاست میساچوسٹس کے برابر ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے کے لیے کثیر سرمایہ درکار ہے۔
فائز کے مطابق، اب تک نیوم میں 5000 کلومیٹر سے زائد فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھایا جا چکا ہے، ایک جدید ڈیٹا سینٹر قائم کیا جا چکا ہے، اور شمسی و ہوائی توانائی پر مبنی توانائی کا پائے دار نظام بھی تیار کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ "ہم نے 294 کلومیٹر طویل پانی کی پائپ لائن بچھا دی ہے اور ایک مکمل زرعی و غذائی نظام کی تعمیر شروع کر دی ہے، جو صرف بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں بلکہ پیداوار اور تقسیم کے تمام پہلوؤں کو شامل کرتا ہے۔ ساتھ ہی ایک سماجی انفرا اسٹرکچر بھی تیار ہو رہا ہے جس میں 5000 سے زائد بستر موجود ہیں تاکہ کارکنوں اور رہائشیوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔"
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ نیوم میں دنیا کی سب سے بڑی سبز ہائیڈروجن پیدا کرنے والی تنصیب تعمیر کی جا رہی ہے، جس پر 8.4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اس منصوبے میں سعودی کمپنی "ایکوا پاور" اور امریکی کمپنی "ایئر پروڈکٹس" بھی شراکت دار ہیں، جو نیوم کو عالمی پائے دار توانائی کا مرکز بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
انھوں نے بتایا کہ گذشتہ برس نیوم نے مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں متنوع سرمایہ کاری کی، جس میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ ان میں "زیرو ایویا" اور "بوم سپرسونک" جیسے مستقبل کے ٹرانسپورٹ حل، اور "بلینڈ رومییکس" جیسی کمپنیوں کے ذریعے بائیو ٹکنالوجی کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی گئی۔
-
سعودی عرب کی سرمایہ کاری سے امریکہ میں ملازمت کے لاکھوں مواقع پیدا ہوئے: شہزادی ریما
امریکہ میں متعین سعودی عرب کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر نے واضح کیا ہے کہ سعودی ...
مشرق وسطی -
چار برس میں امریکہ کے ساتھ سرمایہ کاری تعلقات کو 600 ارب ڈالر تک لے جائیں گے: سعودی عرب
سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح نے منگل کے روز سعودی-امریکی سرمایہ کاری فورم کی ...
مشرق وسطی -
ٹرمپ تمام شعبوں میں سعودی عرب کو بنیادی شریک کے طور پر دیکھتے ہیں: وزارت خارجہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات کے ...
بين الاقوامى