فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (اونروا) نے منگل کو کہا کہ تنازع اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور انسانی امداد پر سخت پابندیوں کے 19 ماہ بعد پورے غزہ کی پٹی کے باشندوں کو قحط کے شدید خطرے کا سامنا ہوگیا ہے۔ انروا نے اپنے فیس بک پیج ایک پوسٹ میں کہا کہ خاندان کئی بار بے گھر ہو چکے ہیں اور اب اپنی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔
ایجنسی نے ضرورت مندوں تک امداد پہنچانے کی اجازت دینے کے لیے ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ یاد رہے اتوار کے روز انروا نے اطلاع دی تھی کہ اس کے پاس ہزاروں ٹرک داخلے کے لیے تیار ہیں اور غزہ میں اس کی ٹیمیں ترسیل میں اضافے کے لیے تیار ہیں۔ انروا نے فیس بک پوسٹ میں مزید کہا غزہ پر ناکہ بندی کو 9 ہفتوں سے زیادہ گزر چکے ہیں اور اسرائیلی ریاست تمام انسانی امداد، طبی سامان اور تجارتی سامان کے داخلے کو روک رہی ہے۔
ایجنسی نے مزید کہا کہ یہ ناکہ بندی جتنی دیر تک جاری رہے گی اتنے ہی بے شمار جانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ واضح رہے غزہ میں 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو ایک بے مثال انسانی بحران کا سامنا ہے جس کی وجہ مارچ کے اوائل سے امداد کے داخلے پر عائد اسرائیلی پابندیاں ہیں۔ 19 جنوری کو جنگ بندی کا نفاذ ہوا تھا اور 18 مارچ کو اسرائیل نے اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کرکے دوبارہ حملے شروع کردیے تھے۔ اس سے قبل سے ہی اسرائیل نے غزہ میں امداد کی ترسیل بھی روک دی تھی۔
دوسری جانب اسرائیل غزہ میں کسی بھی انسانی بحران کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ناکہ بندی کے باوجود وہاں کافی خوراک موجود ہے، یہ ناکہ بندی اس نے مارچ کے اوائل سے پٹی پر عائد کی ہے اور جس کے تحت کسی بھی قسم کی امداد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
-
ناکہ بندی ختم نہ ہوئی تو غزہ میں قحط کا شدید خطرہ ہے: غذائی تحفظ کے ماہرین کا انتباہ
اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ کے لوگوں کو بدترین حالات درپیش
مشرق وسطی -
غزہ : اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے بہترین موقع ہے، ایڈم بوہلر
قیدیوں کی رہائی کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے ایڈم بوہلر نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ...
مشرق وسطی -
غزہ میں ناکہ بندی: اہل غزہ کی کئی نسلوں کے لیے بھوک اور قحط کا طویل مدت تک اثر ہوسکتا ہے
غزہ میں پچھلے 19 ماہ سے اسرائیلی جنگ کی زد میں آئے ہوئے اہل غزہ پر اجتماعی سزا کے ...
مشرق وسطی