شام پر عائد پابندیوں کا خاتمہ بحالی کے لیے عظیم موقع ہے : سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ عادل الجبیر نے بغداد میں منعقدہ عرب لیگ کے 34 ویں سربراہی اجلاس میں اپنی حکومت کا موقف پیش کیا۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ریاض کے دورے کے دوران شام پر عائد پابندیاں اٹھانے کا اعلان، شام میں بحالی، ترقی، تعمیرِ نو اور خوش حالی کے لیے ایک شان دار موقع ہے۔

الجبیر نے اسرائیلی حملوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب شام کی سرزمین پر صہیونی جارحیت کی مذمت کرتا ہے۔ انھوں نے شام کو در پیش سیکیورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے شامی حکومت کی حمایت کی اہمیت پر زور دیا۔ ساتھ اس بات کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ عرب ممالک کو ایسے تمام منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنی چاہیے جو شام کے استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔

الجبیر کی تقریر نے خطے کے متعدد بحرانوں کا بھی احاطہ کیا، جن میں شام، فلسطین، یمن، لبنان اور سوڈان شامل تھے۔ انھوں نے کہا کہ فلسطین کے غیرمعمولی حالات ہم سے مشترکہ کوششوں کے تسلسل کا تقاضا کرتے ہیں تاکہ فلسطینی عوام کو درپیش انسانی مصائب ختم ہوں، اور اسرائیلی قبضے کی جانب سے کیے جانے والے جرائم اور خلاف ورزیاں بند ہوں، جو اقوام متحدہ کے قوانین، بین الاقوامی فیصلوں اور ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

جبری ہجرت کی مخالفت

الجبیر نے اپنی تقریر میں غزہ میں جنگ بندی کو پائے دار بنانے پر زور دیا اور جبری ہجرت کی ہر کوشش کو دو ٹوک انداز میں مسترد کیا۔ انھوں ایسے کسی بھی حل کی مخالفت کی جو فلسطینی عوام کے اپنے جائز حقوق اور حقِ خود ارادیت کو پورا نہ کرے۔

سوڈان میں جنگ بندی

الجبیر نے کہا کہ سعودی عرب برادر ملک سوڈان کے لیے اپنی مستقل اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انھوں نے کہا کہ سوڈان کے فریقین کے مابین مکالمہ ناگزیر ہے، تاکہ مکمل جنگ بندی ممکن ہو، بحران کا خاتمہ ہو، اور سوڈانی عوام کی تکالیف کم ہوں۔ ساتھ ہی انھوں نے انسانی امداد کی فراہمی، سوڈان کی خود مختاری، وحدت، استحکام اور ریاستی اداروں کی سلامتی پر بھی زور دیا۔

یمنی معاہدہ

اسی تناظر میں انھوں نے اعلان کیا کہ سعودی عرب یمن میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، اور سیاسی عمل کی حمایت کرتا رہے گ تا کہ یمنی فریقین کے درمیان جامع معاہدہ ممکن ہو سکے۔ انھوں نے یہ بات بھی دہرائی کہ سمندری راستوں کی سلامتی اور ان میں نقل و حرکت کی آزادی اور حفاظت پوری دنیا کے مفاد میں ہے، کیوں کہ یہ بین الاقوامی سطح پر تمام اقوام سے متعلق ہے۔

لبنان کے استحکام کی حمایت

اسی دوران سعودی وزیر نے کہا کہ ان کا ملک لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد ریاستی اداروں میں اصلاحات لانا اور اسلحے کو صرف ریاست کے دائرہ اختیار میں رکھنا ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ لبنانی حکومت لبنانی عوام کی توقعات پر پورا اترے گی اور ملک کے امن، استحکام اور وحدتِ سرزمین کو برقرار رکھے گی۔

عادل الجبیر نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ "جب ہم اپنی مشترکہ کوششوں کے ذریعے اپنے خطے کو در پیش سیاسی و سیکیورٹی چیلنجوں کا سامنا کرتے ہیں، تو لازم ہے کہ ہم عرب تعاون کو فروغ دیں، علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر مشترکہ موقف اختیار کریں، اور ترقی و خوش حالی کے سفر کو جاری رکھیں تاکہ ہم اپنی اقوام کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل فراہم کر سکیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں