سعودی ویژن 2030 کی کامیابی خطے کے دیگر ملکوں کے لیے نمونہ

ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ
ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

سعودی عرب نے حال ہی میں ویژن 2030 کی لانچنگ کی 9ویں سالگرہ منائی ہے۔ ویژن 2030 قومی آدرشوں کا ایک روڈ میپ' ہے۔ جس کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے متعارف کرایا تھا۔

یہ اس ویژن کی کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے ایک قومی 'رفتار' ہے۔ جہاں بعض حکومتی حکام کے مطابق اسے مختصر مدت کے معاشی عدم استحکام، نوجوانوں کی قومی دھارے سے دوری کو ختم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اس ویژن 2030 کے نو سالہ نتائج کے مطابق اب تک سعودی عرب ایک پائیدار منصوبے کے مطابق ایک بولڈ و بے خوف قیادت کے تحت اور اس کے 'بصیرت آمیز اہداف' کے مطابق معاشرے کی بنیادوں کو نئی شکل دے رہی ہے اور نئی شکل و نئی شناخت کا یہ سفر جاری ہے۔

مملکت نے پچھلے نو برسوں کے دوران کلیدی سچائی کو اجاگر کیا ہے کہ طویل مدتی ویژن اور اس پر عملدرآمد کا ایک تسلسل قومی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ویژن 2030 نے نہ صرف سعودی عرب کو بدل کر رکھ دیا ہے بلکہ اس نے پورے مشرق وسطیٰ کے لیے بھی ایک نیا ترقی کا راستہ متعین کر دیا ہے۔

ویژن 2030 کو بظاہر کبھی بھی معاشی اصلاحات کا ویژن نہیں کہا گیا۔ بلکہ یہ قومی سطح پر چیزوں کو نئے سرے سے ایجاد و دریافت کرنے کی ایک منظم خواہش کو کوشش کے سانچے میں ڈھالنے کا عمل ہے جو سعودی عرب کی قومی معیشت کو متنوع بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اداروں کو جدید تر بنانا اس ویژن کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے ۔ تاکہ مملکت کے لوگوں کی غیر معمولی صلاحیتیں پوری طرح کھل کر اور نکھر کر بروئے کار آسکیں۔

اس ویژن کے تین بنیادی ستون قرار پائے ہیں۔

· ایک متحرک معاشرہ،

· ایک پرجوش معیشت اور

· اپنے مقاصد کے لیے غیر معمولی حد تک آگے بڑھنے کا جذبہ رکھنے والی قوم۔

ان میں سے ہر ایک ستون کے تزویراتی مقاصد ہیں۔ تاکہ سماجی و ثقافتی کھلے پن کو فروغ دیا جائے اور مملکتی نظام میں شہریوں کی شرکت بڑھائی جائے۔ تاکہ مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ایک نجی شعبہ وجود میں آ سکے۔ حکومتی مستعدی کو بڑھایا جائے اور اس مستعدی کو تعلیم و صحت کے شعبے میں ڈھالا جائے۔

ویژن 2030 کا مرکزی نقطہ مملکت کا تیل کی پیداوار پر انحصار کم کرنا، نجی شعبے کو تقویت دینا اور نجی شعبے کو طاقتور بنانا ہے۔

سعودی ویژن 2030 نے گزشتہ نو برسوں میں مملکت کو 'ٹرانسفورم' کیا ہے۔ معاشی میدان میں سعودی عرب نے تیل پر اپنا انحصار کم کیا ہے۔ اس سلسلے میں سیاحت، لاجسٹکس، انٹرٹینمنٹ کے شعبوں میں ترقی کی ہے۔ مملکت نے اس سلسلے میں حکومتی سطح سے 'اقدامات' کا آغاز کیا اور نجی شعبے کی موجودگی کو بڑھایا ہے۔ سعودی عرب کے 'پبلک انویسٹمنٹ فنڈ' کا کردار اس 'عبوری مرحلے' میں نہایت اہم رہا ہے۔ جس سے قومی و بین الاقوامی سطح پر تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔

انفراسٹرکچر سے متعلق بڑے پروجیکٹس میں بحیرہ احمر سے متعلق ڈویلپمنٹ، نیوم اور قدیہ نہایت اہم ہیں۔ ان پروجیکٹس سے سعودی عرب میں ملازمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ نیز سیاحت و انویسٹمنٹ کے شعبوں میں مملکت ایک 'مرکز' بن چکا ہے۔

اس دوران سعودی عرب کے سماجی منظر نامے میں بھی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ جس میں سب سے اہم پیش رفت افرادی قوت میں سے خواتین کی شرکت سب سے اہم ہے۔ نیز نوجوانوں میں بے روزگاری کی سطح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہنر مندی پروگراموں کا فروغ اور توسیع ہے۔

صحت و رہائشی میدان میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ گھر کی ملکیتی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور صحت کے بنیادی انفراسٹرکچر کو جدید تر بنایا گیا ہے۔ جس سے شہریوں کو با اختیار بنانے اور مواقع کو قومی ترقی کے مرکز کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب ڈیجیٹل ترقی میں سب سے آگے ہے۔ انفراسٹرکچر اور رابطہ کاری میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مملکت جدید ترین 'ٹیلی کمیونیکشن سسٹمز' پر فخر کرتا ہے۔

سعودی عرب کے 'جی ڈی پی' میں ڈیجیٹل معیشت کا حصہ تقریباً چار فیصد تک بڑھ گیا ہے۔ بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں گوگل، ہواوے اور 'اوریکل' نے سعودی عرب میں علاقائی ہیڈکوارٹرز قائم کیے ہیں۔ 500 ارب ڈالر کے نیوم پروجیکٹ، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیک، توانائی و پائیدار زندگی کے لیے مملکت کا سفر اہم ہے۔ اس سے مملکت کی قومی شناخت اور مستقبل کے حوالے سے ٹیکنالوجی کے استعمال کا اظہار ہوتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی و پائیداری کے شعبوں میں سعودی عرب نے فیصلہ کن اقدامات کیے ہیں۔ جس سے عالمی موحولیاتی منظر نامے میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کے کردار کے حوالے سے موجود مفروضوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔

مملکت کا 'سعودی کا سرسبز اقدام' اور سر سنز شرق اوسط' دنیا میں جنگلات و ماحول کی بحالی کے سلسلے میں ہونے والی کوششوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ سعودی عرب نے 50 ارب سے زائد درخت لگائے ہیں۔ نیز بنجر زمین کی بحالی کا وعدہ کیا ہے۔ جبکہ مملکت نے توانائی کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب نے 2060 تک کاربن کے اخراج کو صفر تک لے جانے کا عہد کیا ہے۔ ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماحولیاتی ذمہ داری ترقی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ اس کے لیے ضروری ہے۔

ویژن 2030 کے ذریعے مملکت کی سیاحت وثقافت کے شعبوں میں پوزیشن عالمی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ سعودی عرب دنیا کے سیاحتی مقامات میں سے ایک بن چکا ہے۔ سال 2023 میں مملکت نے 100 ملین سے زائد ملکی و بین الاقوامی سیاحوں کا خیر مقدم کیا ہے۔

العلا کے قدیم کھنڈرات سے لے کر بحیرہ احمر کے کنارے پر آسائش ریزورٹس تک سعودی عرب نے تاریخ، مہمان نوازی و جدت کے ذریعے منفرد منزل کی تشہیر کر رہا ہے۔ ثقافتی اظہار و عوامی تفریح جو کسی وقت محدود پیمانے پر تھی اب اس کو مزید فروغ دیا جا رہا ہے۔ اسی کے تحت سعودی عرب میں کنسرٹ، فلمی نمائش اور بین الاقوامی تقریبات روزمرہ زندگی کا حصہ بن رہے ہیں۔

سعودی عرب کی کامیابیوں کی یہ فہرست خطے کے لیے نمونہ ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے بہت سے ممالک کو اسی طرح کے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے تاکہ بے روزگاری کا خاتمہ، قدرتی وسائل پر انحصار میں کمی اور کمزور ادارہ جاتی فریم ورک کو بہتر کر سکیں۔

ویژن 2030 کے ذریعے مستقل مزاجی کے ساتھ مملکت نے سرمایہ کاری و اصلاحات کی راہ ہموار کی ہے۔ تاہم جن ممالک میں اس طرح کے ویژن کی کمی ہے ان میں بحرانی انتظام، دوسروں پر انحصار یا سیاسی جمود کا ہونا ہے۔ ویژن 2030 سمت کا تعین کرتا ہے، قومی اداروں کو متحرک کرتا ہے اور پائیدار ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے۔

مملکت نے ویژن 2030 کے ان نو برسوں میں وہ کچھ حاصل کیا ہے جس کو ناممکن تصور کیا جاتا تھا۔ جس کے نتیجے میں معیشت میں جدت، عوام کے لیے مواقع میں اضافہ، بین الاقوامی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی اور سعودی عرب کو ترقی کے ایک نئے راستے پر گامزن کیا۔

کامیابی کا تعلق پروجیکٹس کے مکمل ہونے سے نہیں ہے بلکہ اداروں اور معاشرے میں ہونے والی تبدیلی سے متعلق ہے۔ خطے کے ممالک کا ویژن 2030 کی طرف آنا 'روڈ میپ' کے طور پر ہے۔ سعودی عرب کا ویژن 2030 کا سفر دوسروں کے لیے نمونہ اور امید ہے کہ بامقصد تبدیلی ممکن ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size