فلسطینی اور اسرائیلی میڈیا میں گردش کرنے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک اسرائیلی خفیہ فوجی دستے نے خان یونس کے وسطی علاقے میں داخل ہو کر یرغمالیوں کو نکالنے کی کوشش کی، اور اس دوران انھوں نے ایک بیگ چھوڑا جس میں ہتھیار اور گولیاں چھپائی گئی تھیں، جنھیں کمبلوں سے ڈھانپا گیا تھا۔
مناظر سے معلوم ہوا کہ اس خفیہ فوجی دستے کے افراد نے عام شہریوں جیسا بھیس بنایا، اور جنوبی غزہ کی اس بستی میں فلسطینیوں کے درمیان داخل ہوئے۔ وہ بیگ اٹھائے ہوئے تھے جو کمبلوں، کپڑوں اور دیگر اشیاء سے اس طرح ڈھکے ہوئے تھے کہ وہ عام بے گھر افراد لگتے تھے۔
العربیہ کو موصولہ معلومات کے مطابق، یہ اسرائیلی خفیہ کارروائی آج پیر کو کی گئی، جس کا مقصد اسرائیلی قیدیوں کو نکالنا تھا، تاہم یہ واضح کیا گیا کہ اس کارروائی میں کوئی اسرائیلی یرغمالی رہا نہ ہو سکا۔
"زنانہ لباس"
اطلاعات کے مطابق، اس خفیہ ٹیم نے عورتوں جیسا لباس پہن رکھا تھا اور وہ بے گھر افراد کی طرح بیگ لیے ہوئے تھے۔ انھوں نے اطلاعات ملنے پر فوراً القسام بریگیڈ (حماس کا عسکری ونگ) کے ایک کمانڈر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ وہ ممکنہ طور پر کچھ قیدیوں کے ساتھ سرنگوں سے نکل رہا ہے۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ قیدی موجود نہیں ہیں، جس پر یہ ٹیم کارروائی مکمل کر کے واپس لوٹ گئی، تاہم اس کے نتائج واضح نہیں ہو سکے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق، اس کارروائی کا مقصد القسام بریگیڈ کے ایک رہنما کو اغوا کرنا اور قیدیوں کو نکالنا تھا۔
"عربات جدعون"
اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے بھی تصدیق کی کہ اسرائیلی فورسز "عربات جدعون" کے نام سے ایک بڑی کارروائی پورے غزہ میں انجام دے رہی ہیں، اگرچہ خان یونس کی اس مخصوص کارروائی کا ذکر انھوں نے نہیں کیا۔
کل اتوار کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک وڈیو پیغام میں اعلان کیا تھا کہ "غزہ میں ایک شدید فوجی معرکہ" شروع ہو چکا ہے، اور اسرائیلی فوج غزہ میں داخل ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم طاقت کے ساتھ غزہ میں داخل ہو رہے ہیں تاکہ جنگ کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔"
واضح رہے کہ اسرائیل غزہ میں حماس پر فوجی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مذاکرات کی میز پر اسے مزید رعائتیں دینے پر مجبور کیا جا سکے، یہ بات برطانوی خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔
دوسری طرف حماس کا مطالبہ ہے کہ جنگ مکمل طور پر ختم کرنے اور امداد کے داخلے کی ضمانت دی جائے، تب جا کر تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی ممکن ہو گی۔
ابھی بھی اسرائیلی فوج کے اندازے کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے تقریباً 58 اسرائیلی قیدی غزہ میں موجود ہیں، جن میں سے 24 زندہ ہیں۔
-
پورے غزہ پر کنٹرول حاصل کر لیں گے ، حماس کو امداد لوٹنے سے روک دیں گے : نیتن یاہو
غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری رہنے اور مذاکرات کے ساتھ ساتھ ان میں توسیع کے دوران، ...
مشرق وسطی -
غزہ میں 92% گھر جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں : انروا
فلسطینی پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی (انروا) کے مطابق غزہ میں ...
مشرق وسطی -
غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر سعودی عرب کی جانب سے سخت ترین الفاظ میں مذمت
سعودی وزارت خارجہ نے شمالی اور جنوبی غزہ میں اسرائیلی قبضے کے فوجی دائرے کو وسعت ...
مشرق وسطی