پورے غزہ پر کنٹرول حاصل کر لیں گے ، حماس کو امداد لوٹنے سے روک دیں گے : نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری رہنے اور مذاکرات کے ساتھ ساتھ ان میں توسیع کے دوران، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ فوج غزہ کے تمام علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے راستے پر گامزن ہے۔

غزہ پر مکمل کنٹرول کی کوشش

نیتن یاہو نے پیر کے روز اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری کردہ ایک وڈیو میں کہا کہ کارروائی میں توسیع کے بعد اسرائیلی افواج اب محصور غزہ کے تمام علاقوں پر قابض ہونے کی راہ پر گامزن ہیں۔ یہ بات فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔

خان یونس میں کارروائی اور اسرائیلی قیدیوں کو نکالنے کے لیے ایک خصوصی اسرائیلی فورس کے داخلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، نیتن یاہو نے تصدیق کی کہ فوج اپنا کام انجام دے رہی ہے۔ تاہم، انھوں نے اس کارروائی کی تفصیلات بیان کرنے سے گریز کیا۔

نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں قحط کی حالت تک پہنچنے سے بچنا ضروری ہے تاکہ اسرائیل اپنی حمایت سے محروم نہ ہو، اور اس کے بقول "سفارتی وجوہات" بھی اس کی متقاضی ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ "اسرائیل کے دوستوں" نے انھیں بتایا ہے کہ اگر فلسطینی علاقوں میں اجتماعی قحط کی تصاویر نشر کی گئیں تو وہ جنگ کی حمایت جاری نہیں رکھ سکیں گے۔

امداد کی لوٹ مار

نیتن یاہو نے زور دیا کہ "حماس کو امداد کی لوٹ مار سے روکنا ضروری ہے"۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے اتوار سے غزہ پر اپنی فضائی بم باری میں شدت پیدا کر دی ہے۔

اسی دوران آج صبح ایک اسرائیلی خصوصی فورس نے خان یونس کے وسطی علاقے میں اسرائیلی قیدیوں کو نکالنے کی غرض سے کارروائی کی۔ تاہم، العربیہ ذرائع نے واضح کیا کہ "اس کارروائی میں کسی اسرائیلی مغوی کو رہا نہیں کرایا گیا"۔

ادھر ایک اسرائیلی ذریعے نے بتایا کہ "اس کارروائی کا مقصد حماس کے عسکری ونگ 'کتائب القسام' کے ایک کمانڈر کو اغوا کرنا، نیز قیدیوں کو نکالنا تھا"۔

اس کے برعکس، اسرائیلی فوج کے ترجمان نے صرف یہ اعلان کیا کہ اسرائیلی افواج غزہ کے تمام علاقوں میں "عربات جدعون" کے نام سے کارروائی کر رہی ہیں، مگر خان یونس کی کارروائی کا الگ سے ذکر نہیں کیا۔

عربات جدعون

اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ اس کی زمینی افواج نے غزہ کے شمالی اور جنوبی کئی علاقوں میں "عربات جدعون" نامی آپریشن کا آغاز کیا ہے۔

اسرائیلی افواج کے اہل کاروں نے بتایا کہ پانچ انفنٹری اور بکتر بند بریگیڈز اس کارروائی میں شریک ہیں، جس کا مقصد فلسطینی علاقے کے مکمل حصے پر دوبارہ قبضہ کرنا اور اسے زمین بوس کر دینا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی اتوار کے روز "غزہ میں ایک زبردست فوجی معرکے" کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی افواج فلسطینی علاقے میں داخل ہو چکی ہیں۔ انھوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر جاری ایک وڈیو میں کہا "ہم زور و طاقت کے ساتھ غزہ میں داخل ہو رہے ہیں تاکہ جنگ کے مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔"

یہ سب ایسے وقت ہو رہا ہے جب اسرائیل محصور غزہ میں حماس پر فوجی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ مذاکرات کی میز پر اس سے مزید رعائتیں حاصل کی جا سکیں۔ یہ بات برطانوی خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔

دوسری جانب حماس اس مطالبے پر قائم ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں جنگ مکمل طور پر ختم کی جائے اور امداد فراہم کی جائے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کے اندازے کے مطابق سات اکتوبر 2023 سے اب تک تقریباً 58 اسرائیلی قیدی غزہ میں زیر حراست ہیں، جن میں سے 24 زندہ ہیں.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں