غزہ میں 92% گھر جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں : انروا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی (انروا) کے مطابق غزہ میں 92 فی صد گھروں کو نقصان پہنچا ہے یا وہ تباہ ہو چکے ہیں۔

انروا نے پیر کے روز اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں کہا کہ "غزہ میں خاندان ناقابلِ تصور تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔ پروٹیکشن گروپ کے مطابق 92 فی صد مکانات متاثر یا تباہ ہو چکے ہیں۔"

ایجنسی نے یہ بھی بتایا کہ "بے شمار افراد بار بار بے گھر ہو چکے ہیں اور پناہ گاہیں نایاب ہو چکی ہیں۔" ساتھ ہی انروا نے زور دیا کہ وہ اب بھی زمینی سطح پر موجود ہے اور نہایت اہم امداد فراہم کر رہی ہے۔

انروا نے محاصرہ ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

"وسیع زمینی کارروائی" کا آغاز

یہ صورتِ حال ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز غزہ میں "وسیع زمینی کارروائی" کے آغاز کا اعلان کیا۔
فوج نے ایک بیان میں بتایا کہ غزہ کے شمال اور جنوب میں وسیع زمینی کارروائی شروع کر دی گئی ہے، جو کہ "عربات جدعون" کے نام سے کی جانے والی کارروائی کا آغاز ہے۔

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز بھی غزہ پر حملے تیز کرنے کا اعلان کیا تھا، حالاں کہ عالمی سطح پر جنگ بندی کی اپیلیں اور انسانی صورتِ حال پر تنبیہات جاری ہیں۔

یاد رہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں 18 مارچ کو دوبارہ شروع ہوئیں، جب کہ اس سے پہلے مصر، قطر اور امریکہ کی ثالثی سے ایک وقتی جنگ بندی طے پائی تھی۔ تاہم، اس کے بعد معاہدے کے اگلے مرحلے پر مذاکرات میں تعطل آ گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں