"اسرائیل بچوں کو شوقیہ قتل کر کے دنیا میں اچھوت ریاست بنتا جا رہا ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیل کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ یائر گولن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے "کہ وہ بچوں کو ایک مشغلے کے طور پر قتل کر رہی ہے اور تل ابیب اقوام عالم کے درمیان ایک اچھوت ریاست بننے جا رہی ہے۔"

گولن نے اسرائیلی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے ملک پر "بچوں کو مشغلے کے طور پر مارنے" کا الزام لگایا ہے۔

اسرائیلی اخبار " يديعوت احرونوت" نے منگل کے روز حزب اختلاف کے بائیں بازو کے سیاستدان کے حوالے سے اپنی اشاعت میں بتایا کہ اگر اسرائیل نے عقل مندانہ رویہ نہ اپنایا تو وہ اقوامِ عالم میں جنوبی افریقہ جیسی اچھوت ریاست بن جائے گا۔ ایک عقل مند ریاست اپنے شہریوں کے خلاف جنگ نہیں کرتی، بچوں کو شوقیہ نہیں مارتی، اور نہ ہی آبادی کو زبردستی بے دخل کرتی ہے۔"

گولن کا مزید کہنا تھا اسرائیلی حکومت اخلاقیات سے عاری منتقم مزاج لوگوں سے بھری ہوئی ہے جو ہنگامی صورت حال میں ملک کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

اسرائیلیوں کے ردعمل میں غصہ اور بائیکاٹ کی اپیلیں

اسرائیل کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ یائر گولن کے بیانات کے بعد اسرائیلی اخبار نے مختلف رہنمائوں کی طرف سے شدید ردعمل رپورٹ کیا ہے۔ اسرائیلی قومی اتحاد پارٹی کے سربراہ، بینی گینٹز نے انہیں اپنی انتہا پسندانہ اور جھوٹ پر مبنی باتوںسے رجوع کرنے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹس نے بھی گولان کے بیانات کی مذمت کی اور کہا کہ جس کسی نے بھی جنگ کے دوران اسرائیل اور اسرائیلی دفاعی فوج پر جھوٹے الزامات لگائے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، اسے عوامی زندگی سے مکمل طور پر خارج کر دینا چاہیے۔ گولن کی مذمت اور تنقید کرنے والوں میں سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ، قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر، امیگریشن کے وزیر ایویر سوفر، وزیر تعلیم یوو کیش اور لیکود ایم کے موشے سعدیہ شامل ہیں۔

خلیجی ممالک کا غیر معمولی دباؤ

گولن کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں ،جب امریکہ اسرائیل پر غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔ العربیہ اور الحدث کو اپنے ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق امریکی مداخلت کی اصل وجہ خلیجی ممالک کی طرف سے ڈالا جانے والا غیر معمولی دباؤ ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو جنگ ختم نہ کرنے کی صورت میں اپنی حمایت سے دست کشی کی دھمکی دی تھی؛ جس کے باعث نیتن یاہو کے دفتر میں اس امریکی وارننگ سے کشیدگی پیدا ہوئی۔

یورپ کا اسرائیل کو انتباہ

برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کے رہنماؤں نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے غزہ میں اپنی فوجی مہم بند نہ کی اور امدادی سامان کی ترسیل پر عائد پابندیاں نہ ہٹائیں، تو ان کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ اس سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نےمنگل کے روز برسلز میں ایک اجلاس میں اس بات پر غور کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کیے جائیں۔

نیدرلینڈ یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان تجارتی تعلقات کا جائزہ لینے اور موجودہ معاہدوں کو معطل کرنے کے اقدامات کی قیادت کر رہا ہے۔

نیدرلینڈ کے وزیر خارجہ کیسپر ویلڈکیمپ کی طرف سے پیش کی جانے والی یہ تجویز دونوں فریقوں کے درمیان ایسوسی ایشن کے معاہدے کے آرٹیکل دو پر مبنی ہے، جو یورپی یونین کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر وہ اسرائیل کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب سمجھے تو وہ معاہدوں کو معطل کر سکتا ہے۔ تاہم تجارتی تعلقات معطل کرنے کے لیے یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک کی منظوری درکار ہوگی۔

غزہ میں اب صرف بم ہی بھیجا جا سکتا ہے: انروا

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی (انروا) نے کہا کہ اس وقت غزہ میں صرف بم داخل ہو رہے ہیں، اور وہاں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہی۔

انروا نے اپنی فیس بک پوسٹ میں کہا کہ غزہ کو اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے انسانی بحران کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: "فضائی، زمین اور سمندر سے شدید اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں سینکڑوں شہادتیں ہوئیں اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے۔"

انروا نے یہ بھی بتایا: کہ اسرائیلی حکومت گزشتہ 11 ہفتوں سے غزہ میں ہر قسم کی سپلائی مکمل طور پر بند کیے ہوئے ہے۔ مارچ کے آغازمیں جب مصر، قطر اور امریکا کی نگرانی میں طے پانے والا سیز فائر معاہدے کا پہلا مرحلہ ناکام ہوا، تب سے اسرائیل نے امدادی سامان کی فراہمی پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس کے نتیجے میں 20 لاکھ سے زائد فلسطینی غیر معمولی انسانی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں