شام پر اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ عالمی اور علاقائی حمایت کا مظہر ہے: اسعد الشیبانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ شام پر سے اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، خطے اور دنیا کی جانب سے شام کی حمایت کے مضبوط ارادے کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ بیان انہوں نے دارالحکومت دمشق میں اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ پابندیوں کا ہٹایا جانا دراصل شام کی حمایت کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی ارادے کا ثبوت ہے‘‘۔

الشیبانی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’آج شامی عوام کے پاس اپنے ملک کو دوبارہ تعمیر کرنے کا ایک تاریخی اور نہایت اہم موقع موجود ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’آج کا منصوبہ یہی ہے کہ ہم ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ جو بھی شام میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے اس کے لیے دروازے کھلے ہیں اور جو تعاون کرنا چاہتا ہے، اس کے سامنے اب کوئی پابندی نہیں‘‘۔

یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برسلز میں یورپی سفارت کاروں نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک نے شام پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد شام میں استحکام اور ترقی کے عمل کو سہارا دینا ہے۔

یورپی وزرائے خارجہ کی جانب سے اس فیصلے کا باضابطہ اعلان آج کسی وقت متوقع ہے۔ یہ پیشرفت ایسے موقع پر ہوئی ہے جب گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض سے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن بھی شام پر سے اپنی اقتصادی پابندیاں ختم کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ یورپی یونین کی جانب سے یہ قدم فروری میں اٹھائے گئے ابتدائی اقدام کے تسلسل میں ہے، جب شام کے کچھ اہم اقتصادی شعبوں پر عائد پابندیاں جزوی طور پر معطل کی گئی تھیں۔

یورپی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر شام کی نئی قیادت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور جمہوریت کی جانب پیش رفت کے اپنے وعدوں پر عملدرآمد میں ناکام ہوئی تو پابندیاں دوبارہ نافذ کی جا سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں