اسرائیلی فوج کا غزہ میں فلسطینیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی فوجیوں نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران فلسطینیوں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس بات کی تصدیق عالمی خبررساں ادارے ایسوشی ایٹڈ پریس کو دی گئی گواہیوں سے ہوئی ہے۔

فوجیوں نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز فلسطینی شہریوں کو زبردستی عمارتوں اور سرنگوں میں داخل ہونے پر مجبور کرتی ہیں تاکہ وہ دھماکا خیز مواد یا مسلح افراد کی موجودگی کی تصدیق کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خطرناک پریکٹس پچھلے بیس ماہ سے جاری جنگ کے دوران عام ہو چکی ہے۔

دو اسرائیلی فوجیوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس اور ایک تیسرے نے اسرائیلی تنظیم "کسر الصمت" کو بتایا کہ فوجی کمانڈرز ان کارروائیوں سے باخبر تھے اور بعض نے تو اس کا حکم بھی دیا۔

فوجیوں نے مزید بتایا کہ فلسطینیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے عمل کو "مچھر پروٹوکول" کا نام دیا جاتا تھا اور انہیں "ڈنک مارنے والے" جیسے توہین آمیز الفاظ سے بھی پکارا جاتا تھا۔

ایک اسرائیلی افسر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "یہ احکامات اکثر بالا حکام کی جانب سے آتے تھےاور لگ بھگ ہر عسکری یونٹ فلسطینیوں کو خطرناک مقامات صاف کرنے کے لیے استعمال کرتی تھی۔"

اسرائیلی تنظیم "کسر الصمت" کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نداو فایمان نے بتایا کہ یہ اکا دکا واقعات نہیں بلکہ ایک منظم اور خطرناک اخلاقی انحطاط کی نشاندہی کرتے ہیں۔

فلسطینیوں کی دل دہلا دینے والی گواہیاں

ایمن ابو حمدان جو غزہ کے رہائشی ہیں نے بتایا کہ اسے اسرائیلی فوج نے زبردستی فوجی وردی پہنائی، پیشانی پر کیمرہ نصب کیا اور گھروں میں داخل کر کے جانچ کا حکم دیا۔ ایک یونٹ کے بعد اسے دوسری یونٹ کے حوالے کیا جاتا رہا۔ ایمن نے بتایا کہ اسے پکڑ کر اس کے خاندان سے الگ کر دیا گیا اور اسے بتایا گیا کہ یہ "خصوصی مشن" ہے۔

اسے 17 روز تک عمارتوں اور زمین میں کھودی گئی جگہوں کی تلاشی لینے پر مجبور کیا گیا، پیچھے اسرائیلی فوجی کھڑے رہتے تھے۔ جیسے ہی جگہ کلیئر ہوتی وہ اندر داخل ہو کر تباہی مچاتے۔ ایمن نے بتایا کہ صرف اسی وقت اس کی آنکھیں اور ہاتھ کھولے جاتے جب اسے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا۔

فلسطینی شہری مسعود ابو سعید نے بتایا کہ مارچ 2024ٰ ءمیں اسے دو ہفتے تک خان یونس میں ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ وہ ابتدائی طبی امداد کی جیکٹ پہنے ہوئے تھا تاکہ پہچانا جا سکے۔ اس کے ہاتھ میں موبائل، ہتھوڑا اور تار کاٹنے والے اوزار تھے۔

اس دوران اس کی ملاقات اپنے بھائی سے ہوئی جو ایک اور یونٹ کے ہاتھوں اسی طرح استعمال ہو رہا تھا۔ دونوں گلے ملے، اور مسعود کو لگا کہ اسرائیلی فوج نے اس کے بھائی کو مار ڈالا ہوگا۔

جنین کی رہائشی ہزار استیتی نے بتایا کہ نومبر میں اسے پناہ گزین کیمپ سے اٹھا کر زبردستی مختلف اپارٹمنٹس میں بھیجا گیا تاکہ وہ ان کی تصویریں لے اور تلاشی دے۔ وہ بار بار التجا کرتی رہی کہ اسے واپس اس کے 21 ماہ کے بیٹے کے پاس جانے دیا جائے، مگر فوجیوں نے نہ سنی۔ اس نے کہا کہ"میں بہت ڈری ہوئی تھی کہ کہیں وہ مجھے مار نہ دیں اور میں دوبارہ اپنے بیٹے کو نہ دیکھ سکوں"۔

ایسے مزید کئی فلسطینیوں نے بھی مغربی کنارے میں اپنے ساتھ پیش آئے واقعات کی گواہی دی ہے۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ

ادھر اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کو انسانی ڈھال بنانے پر مکمل پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور کسی بھی فوجی کو ایسے اقدامات کرنے سے سختی سے منع کیا جاتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ "کسر الصمت" ایک اسرائیلی غیر سرکاری تنظیم ہے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فوجی زیادتیوں پر سابق فوجیوں کی گواہیاں جمع کرتی ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے مارچ سے غزہ میں ایک نئی کارروائی شروع کی ہے، جس کا مقصد حماس پر دباؤ ڈالنا، مذاکرات میں برتری حاصل کرنا اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی ممکن بنانا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ان کا ارادہ غزہ کے زیادہ تر علاقوں پر کنٹرول حاصل کر کے وہاں سے انخلا نہ کرنے کا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں