فلسطینی گروہوں کا اسلحہ جمع کرانے سے انکار سنگین نتائج لا سکتا ہے : لبنان کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لبنان کی حکومت نے ملک بھر میں اپنی عمل داری قائم کرنے کا عمل شروع کر دیا۔ سرکاری ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ حکام نے جمعہ کے روز لبنانی-فلسطینی مشترکہ انتظامی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں ایک تدریجی منصوبہ منظور کر لیا ہے۔ اس کے تحت تمام فلسطینی پناہ گزین کیمپوں سے بھاری، درمیانے اور ہلکے درجے کا اسلحہ واپس لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اگر کسی فریق نے تعاون سے انکار کیا تو اس کے خلاف مختلف اقدامات کیے جائیں گے، جن میں لبنان میں داخلے کے ویزے منسوخ کرنا اور ان سے ملک چھوڑنے کا مطالبہ شامل ہو گا۔

حکام نے واضح کیا کہ لبنانی فوج اور جنرل سیکیورٹی کی جانب سے فلسطینی کیمپوں سے اسلحہ جمع کرنے کا عمل آئندہ ماہ، یعنی جون کے وسط سے شروع کیا جائے گا۔

ابتدائی مرحلہ دار الحکومت بیروت کے کیمپوں سے شروع ہو گا، جن میں برج البراجنہ، شاتیلا، اور مار الیاس شامل ہیں۔ اس کے بعد جولائی کے آغاز میں وادی بقاع کے کیمپوں (بعبلک کا الجلیل کیمپ) اور شمالی لبنان کے کیمپ البدّاوی سے اسلحہ جمع کیا جائے گا۔ پھر جنوبی لبنان کے وہ کیمپ آئیں گے جو دریائے لیطانی کے جنوب میں واقع ہیں، جیسے الرشیدیہ (جو سب سے بڑا کیمپ ہے)، البرج الشمالی، اور البصّ ... یہ تمام کیمپ فتح موومنٹ کے زیر انتظام ہیں۔

عين الحلوہ کیمپ ... سب سے مشکل مرحلہ

جہاں تک "عين الحلوہ" کیمپ کا تعلق ہے، جو سب سے پیچیدہ اور حساس کیمپ سمجھا جاتا ہے، وہاں موجود مسلح گروپوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ پہلا حصہ "تنظیم آزادیِ فلسطین " (PLO)، دوسرا "حماس" اور "اسلامی جہاد"، اور تیسرا حصہ "شدت پسند اسلامی گروہ"۔

ذرائع کے مطابق "حماس"، "جہاد اسلامی" اور دیگر گروپوں کو آئندہ دو روز میں لبنانی و فلسطینی فریقوں کے مابین ہونے والے اسلحہ کے خاتمے کے معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کر دیا جائے گا، اور منصوبے پر عمل درآمد کے اوقات سے بھی مطلع کیا جائے گا۔

لبنان میں 2 لاکھ 35 ہزار سے زیادہ رجسٹرڈ فلسطینی پناہ گزین آباد ہیں، جو ملک کے مختلف علاقوں میں موجود 12 باقاعدہ کیمپوں اور 57 غیر سرکاری بستیوں میں تقسیم ہیں۔ ان کیمپوں میں اسلحے کی مقدار مختلف ہے، البتہ شمالی لبنان میں واقع نہر البارد کیمپ مکمل طور پر اسلحے سے پاک ہے۔ یہ 2007 سے لبنانی فوج کے کنٹرول میں ہے، جب وہاں "فتح الاسلام" کے خلاف شدید جھڑپیں ہوئیں، جو تین ماہ سے زائد جاری رہیں اور جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں