شام و عراق میں داعش کے امیر کی بیوی ام خدیجہ الشیشانیہ نے "العربیہ" کے ساتھ ایک انٹرویو میں دہشت گرد تنظیم میں اپنی شمولیت اور کئی دیگر خفیہ تفصیلات کا انکشاف کیا۔
داعش کی قیادت میں دوسرے نمبر کے شخص عبداللہ مکی الرفیعی کی بیوی نے جمعہ کو نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا کہ میرے شوہر نے مجھے آہستہ آہستہ بدلا اور وہی میرے داعش میں شامل ہونے کا سبب بنے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے قرآن پڑھنا نہیں آتا تھا اور روسی استانیوں نے تنظیم کے اندر ہمیں قرآن پڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ دینی کلاسز سے غیر حاضری پر سزائیں دی جاتی تھیں۔ ام خدیجہ الشیشانیہ نے یہ بھی کہا کہ میرے شوہر نے مجھے سکھایا کہ تنظیم کے اندر حلال اور حرام لچکدار ہیں۔
"لم أكن أعرف كيف أقرأ القرآن".. أم خديجة الشيشانية زوجة "والي #سوريا و #العراق في داعش" عبد الله مكي تكشف مفاجآت عن لحظة انضمامها للتنظيم: زوجي السبب#قناة_العربية pic.twitter.com/qjFsgGFJkC
— العربية (@AlArabiya) May 24, 2025
غیر ملکی خواتین عربوں سے زیادہ مہنگی
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تنظیم میں میری شمولیت کے آغاز میں کوئی دینی کلاسز نہیں تھیں لیکن میرے شوہر کی وفات کے بعد مجھے منبج میں ایک مضافے میں منتقل کر دیا گیا اور وہاں ہم نے قرآن سیکھنا شروع کیا۔ اس کے بعد ہمیں عقیدہ اور فقہ کی کلاسز زبردستی پڑھائی گئیں۔
"نساء أوروبا أردن تنفيذ العمليات الاستشهادية".. أم خديجة الشيشانية زوجة "والي #سوريا و #العراق" في التنظيم عبد الله مكي تكشف مفاجأة جديدة عن التنظيم #قناة_العربية pic.twitter.com/bQVGWNNxTY
— العربية (@AlArabiya) May 23, 2025
انہوں نے کہا کہ نصیبہ بٹالین خواتین کو ان کی نیتوں کے مطابق تقسیم کرتی تھی۔ خودکش حملے کرنے کی خواہشمند زیادہ تر یورپی قومیت کی تھیں۔ اس شعبہ میں چیچن اور روسی خواتین بہت کم تھیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ داعش میں ہر عورت کی ایک قیمت تھی اور غیر ملکی خواتین عربوں سے زیادہ مہنگی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے 18,000 ڈالر میں اپنی آزادی خریدی تھی۔ میں نے کئی سالوں تک مضافات میں بیوہ کے طور پر زندگی گزاری اور مجھے سبایا (لونڈیاں) کے بارے میں تفصیلات صرف آنے والی خواتین سے ہی سننے کو ملیں۔ میں کسی بھی یزیدی خاتون سے 2019 تک نہیں ملی تھی۔
یزیدی خواتین اور سبایا
شام و عراق میں داعش کے والی یا امیر کی بیوی نے یزیدی خواتین کی تقدیر کو دیکھنے کا لمحہ بیان کیا اور خود کو داعش تنظیم میں ایک سبیہ کے طور پر تصور کیا اور کہا کہ اگر میں ان کی جگہ ہوتی تو برداشت نہ کر پاتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے سبایا کے بارے میں ویڈیوز دیکھیں اور خود کو ان کی جگہ تصور کیا مجھے لگا کہ ان کے ساتھ جو ہوا وہ غیر انسانی تھا اور اگر میں ان کی جگہ ہوتی تو ایک لمحہ بھی برداشت نہ کر پاتی۔
حواء الشیشانیہ نے بتایا کہ ابو خدیجہ چھپنے کے لیے کس طرح دھوکہ دہی کا استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ راتوں کو سو نہیں پاتے تھے اور ناسف بیلٹ ان سے کبھی جدا نہیں ہوتا تھا۔
کبھی جدا نہ ہونے والا ناسف بیلٹ
حواء الشیشانیہ نے یہ بھی کہا کہ وہ ہمیشہ دو ناسف بیلٹ پہنتے تھے کیونکہ انہیں انبار کے صحرا میں اپنے گڑھ پر امریکی افواج کی فوری لینڈنگ کی توقع تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک امریکی طیارے کے ان کی گاڑی کا تعاقب کرنے کے دوران اس لمحے انہوں نے مجھ سے ناسف بیلٹ پہننے کو کہا تو میں نے انکار کر دیا لیکن انہوں نے مجھے مجبور کیا تاکہ میں امریکی افواج کے قبضے میں نہ آؤں۔ حواء الشیشانیہ نے بتایا کہ وہ دو بار راکٹ حملے سے بچ گئی تھیں اور عراق کے انبار صحرا میں کئی بار محاصرے سے بھی بچ گئیں۔
مفاجأة في السجن: أم حذيفة زوجة البغدادي على قيد الحياة.. حواء الشيشانية زوجة والي داعش في #سوريا و #العراق تتحدث لـ "#العربية" عن الصدمة الكبرى ورد فعل زوجها أبو خديجة بعدما علم بإذاعة المقابلة #مقابلة_خاصة#قناة_العربية
— العربية العراق (@AlArabiya_Iraq) May 23, 2025
الحلقة الكاملة: https://t.co/JwOhMvkYF4 pic.twitter.com/5P7yez5Ggg
اپنے شوہر کی موت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ اچانک ہوا اور مجھے ایک دن بعد کوئی واضح تفصیلات یا ان کی لاش دیکھے بغیر اطلاع دی گئی۔ انہوں نے مجھے ہفتہ کو بتایا اور کہا کہ وہ جمعہ کو مر گئے تھے۔
یاد رہے گزشتہ مارچ میں بغداد نے عبداللہ مکی مصلح الرفیعی المعروف ابو خدیجہ کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔ ابو خدیجہ کو جولائی 2023 میں امریکی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہں عراق اور دنیا کے سب سے خطرناک دہشت گردوں میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔
قوات #القيادة_المركزية_الامريكية تتمكن من تحييد قائد "العمليات الخارجية" في تنظيم داعش والذي كان يشغل منصب الرجل الثاني في التنظيم
— U.S. Central Command (@CENTCOMArabic) March 15, 2025
تامبا، فلوريدا – في 13 مارس/آذار، نفّذت قوات القيادة المركزية الأمريكية (#سنتكوم)، بالتعاون مع قوات الاستخبارات والأمن العراقية، ضربة جوية دقيقة في… pic.twitter.com/Qw54bOLA8a
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنی طرف سے کہا تھا کہ الرفیعی کا خاتمہ عراقی سکیورٹی اداروں کے تعاون سے انبار صوبے میں ایک "درست" فضائی حملے کے ذریعے کیا گیا۔