غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا،امداد ناکافی قرار، دوماہ میں 950 سےزائد بچےجاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین (انروا) نے اتوار کے روز ایک تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی میں صرف دو ماہ کے دوران 950 سے زائد بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

انروا نے اپنی فیس بک پوسٹ میں کہا کہ "غزہ کے بچے ناقابلِ تصور اذیت سے گذر رہے ہیں۔ وہ بھوک سے بلک رہے ہیں، بے گھر ہو چکے ہیں اور اندھی بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں۔ یہ سلسلہ اب رکنا چاہیے، بچوں کو تحفظ دینا لازم ہے"۔

ادارے نے اس سے قبل کہا تھا کہ موجودہ انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے غزہ کو روزانہ 500 سے 600 ٹرک امداد کی ضرورت ہے۔ انروا کے مطابق اقوام متحدہ اور اس کی ذیلی ایجنسیوں کے ذریعے منظم اور مسلسل امدادی قافلوں کی ترسیل ہی تباہی کو مزید بڑھنے سے روکنے کا واحد راستہ ہے۔

ادھر حماس کے زیر انتظام ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ اب تک صرف 100 ٹرک غزہ میں داخل ہو سکے ہیں، جو کل ضروریات کا محض ایک فیصد ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خوراک اور دوا کی قلت کے باعث اب تک 57 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

غزہ کے مختلف علاقوں خاص طور پر شمالی حصے میں غذائی بحران بدترین سطح پر پہنچ چکا ہے، جہاں اسرائیلی رکاوٹوں کی وجہ سے امدادی ٹرک مکمل طور پر نہیں پہنچ پا رہے اور کئی علاقوں میں روٹی کی فراہمی بھی ممکن نہیں رہی۔ اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کے مطابق اس وقت صرف 25 میں سے 4 تنور ہی کام کر رہے ہیں جو شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔

بازاروں سے غذائی اشیاء تقریباً ختم ہو چکی ہیں اور قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جس سے غذائی قلت، بھوک اور قحط کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 70 ہزار سے زائد بچے موت کے دہانے پر ہیں۔

غزہ کی انتظامیہ پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ انسانی صورتحال تباہ کن ہو چکی ہے، اور دو مارچ سے کسی قسم کی انسانی امداد نہیں پہنچی۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 80 دنوں میں غذائی قلت اور ادویات کی عدم دستیابی کے باعث 320 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

خوراک کے تحفظ سے متعلق ایک بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً 19 لاکھ 50 ہزار فلسطینی خوراک کے شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ 1 لاکھ 33 ہزار سے زائد افراد فاقہ کشی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں