اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر ایک نیا حملہ کیا ہے۔
آخری طیارہ بھی تباہ کر دیا گیا
انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے صنعا کے ہوائی اڈے پر حوثیوں کے اہداف کو نشانہ بنایا، اور اس کارروائی کے دوران حوثیوں کے زیر استعمال آخری طیارے کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ اس آپریشن کا نام "سنہرے موتی" رکھا گیا ہے۔ کاتز کے مطابق یہ حملہ ایک واضح پیغام ہے اور اسرائیلی پالیسی کا تسلسل ہے کہ جو ہم پر حملہ کرے گا، وہ بھاری قیمت ادا کرے گا۔
یسرائیل کاتز نے مزید کہا کہ یمن کی بندرگاہوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور صنعا کے ہوائی اڈے کو بار بار تباہ کیا جائے گا ... نیز وہ تمام اسٹریٹیجک ڈھانچے جو حوثی استعمال کرتے ہیں، ان پر بھی حملے جاری رہیں گے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ حوثی بحری اور فضائی محاصرے میں ہوں گے اور "جیسا کہ ہم نے وعدہ کیا تھا اور خبردار کیا تھا، جو ہمیں نقصان پہنچائے گا، ہم اس کا سات گنا بدلہ لیں گے"۔
جو ہمیں نقصان پہنچائے، ہم اسے نقصان پہنچائیں گے
اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج نے "جو ہمیں نقصان پہنچائے، ہم اسے نقصان پہنچائیں گے" کے اصول کے تحت صنعا کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کنیسٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حوثی درحقیقت ایران کا ایک بازو ہیں، جو یمن سے ہونے والے حملوں کے ذمہ دار ہیں۔
ادھر اسرائیلی چینل 12 نے انکشاف کیا ہے کہ یمن کے صنعا ہوائی اڈے پر بم باری میں 10 سے زیادہ لڑاکا طیارے شریک تھے۔
"العربیہ" کے نمائندے کے مطابق، اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں صنعا کے ہوائی اڈے پر زوردار دھماکے سنے گئے۔
یہ حملے اُس وقت کیے گئے جب چند گھنٹے قبل اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ یمن سے داغا گیا ایک حوثی میزائل روک لیا گیا ہے، جب کہ منگل کی شام مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجے۔
یہ صورت حال ایسے وقت سامنے آئی جب حوثیوں نے گزشتہ دنوں تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
غزہ کی جنگ روکنے کا مطالبہ اور حزب اللہ جیسے انجام کی دھمکی
جب سے اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ چھڑی ہے، یمن میں موجود حوثی تحریک نے اسرائیل کی طرف درجنوں میزائل داغے ہیں اور بحیرہ احمر میں جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے حماس اور غزہ کی حمایت میں کیے جا رہے ہیں، اور اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک غزہ کا محاصرہ ختم نہیں ہوتا۔
دوسری طرف اسرائیل نے بھی کئی بار حوثی اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور انھیں لبنان میں حزب اللہ اور غزہ میں حماس جیسے انجام کی دھمکی دی ہے۔
-
حوثی مسلح عناصر کا قبائلی شخصیت کے گھر پر حملہ ، بیوی اور 3 بچے قتل ، یمنی میڈیا
حوثی عسکری عناصر کے ساتھ جھڑپ کے بعد سے شیخ المنصوری کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ...
مشرق وسطی -
کوپن ہیگن:مقبوضہ مغربی علاقوں میں قائم اسرائیلی کمپنیوں کوفنڈنگ روکنے پرپارلیمنٹ غورکرے گی
نارویجن پارلیمنٹ میں آنے والے اجلاس میں توقع کی جارہی ہے کہ اسرائیل کے خلاف اس ...
بين الاقوامى -
غزہ پر اسرائیلی حملوں میں شدت، بچوں سمیت کم از کم 16 افراد ہلاک
ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 54 ہزار کے قریب
مشرق وسطی