غزہ فاونڈیشن کے مرکزسےمتصل بھوکےفلسطینیوں کی ہلاکت کی رپورٹنگ پروائٹ ہاؤس'بی بی سی'سےناراض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

برطانوی نشریاتی ادارہ 'بی بی سی' اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ حمایت سے قائم ' غزہ فاؤنڈیشن' کے پس منظر میں ہلاکت خیز واقعے کی رپورٹنگ پر وائٹ ہاؤس کی بھی زد میں آگیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارہ ' بی بی سی ' اس سے قبل اسرائیل کی غزہ جنگ کی رپورٹنگ کے مغربی انداز کی وجہ سے تنقید برداشت کرتا رہا۔ مگر اب اسرائیل اور امریکہ نے تھوڑے سے ' انحراف' کو بھی قبول نہیں کیا ہے۔

'بی بی سی' کی اس رپورٹنگ کو اسرائیلی فوج کے ہاتھوں امداد اور خوراک کے متلاشی فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے وائٹ ہاؤس نے ' غیر درست ' قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے 'بی بی سی' کی رپورٹ میں کیے گئے اس دعوے کی بھی تردید کی ہے کہ ' امریکہ نے اس واقعے کو منظر سے ہٹایا ہے۔

واضح رہے وائٹ ہاوس اور 'بی بی سی' کے درمیان فلسطینیوں کی ہلاکت کا یہ ایک واقعہ اس وقت تنازعے کا باعث بنا ہے جب منگل کے روز وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے برطانوی ادارے پر الزام لگایا کہ 'بی بی سی' نے اتوار کے روز رفح میں ہونے والی ہلاکتوں کے لیے حماس پر انحصار کیا ہے۔

یہ ہلاکت خیز اور اندوہناک واقعہ غزہ فاؤنڈیشن کی طرف سے قائم کیے گئے امداد تقسیم کرنے کے مرکز کے قریب تر پیش آیا تھا۔ فاؤنڈیشن کے مراکز کو امریکہ نے بدھ کے روز تزئین و آرائش کے نام پرخوراک تقسیم کرنے کی سرگرمیوں کو معطل رکھا ۔

یاد رہے پچھلے سال ماہ مئی میں امریکہ کی غزہ سے متصل قائم کردہ عارضی بندرگاہ بھی نصیرات آپریشن میں ایک بڑی اسرائیلی جنگی کاررووائی کے دوران کافی ہدف تنقید بنی تھی۔ تاہم اس عارضی امریکی بندرگاہ کو نصیرات آپرہشن کے فوری بعد بند کر دیا گیا تھا۔

امریکی پریس سیکرٹری لیویٹ نے 'بی بی سی' کے بارے میں یہ بھی کہا اس نے اپنی ایک سٹوری واپس لے لی ہے۔ مگر نشریاتی ادارے نے اس دعوے کو مکمل بے بنیاد قرار دیا ہے۔

'بی بی سی' نے اس سلسلے میں ایک بیان میں کہا 'بی بی سی' کے فوٹیج کا جائزہ لینے کے بعد ایک سٹوری کو واپس لینے کا دعوی بالکل غلط ہے۔ کوئی سٹوری واپس نہیں لی ہے نیز ہم اپنی صحافتی سرگرمیوں اور رپورٹس پر قائم ہیں۔'

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے کہا تھا کہ 'بی بی سی' نے رفح میں فاؤنڈیشن کے مرکز کے ساتھ ہلاکتوں کے واقعے میں کئی بار ہلاکتوں کی تعداد تبدیل کی ہے۔

پریس سیکرٹری نے ہلاکتوں کی 'بی بی سی' کی رپورٹنگ کے حوالے سے مختلف اعداد کا ذکر کیا کہ کبھی فلسطینیوں کی یہ ہلاکتیں 26 بتائی گئیں۔ کبھی 31 بتائی گئیں اور کبھی 21 بتائی گئیں۔ 'بی بی سی' نے فوری طور پر ان دعووں کی تردید کی ہے۔

خیال رہے مقامی لوگوں اور طبی عملے کے مطابق یہ فلسطینی اس وقت قتل کیے گئے جب وہ غزہ فاؤنڈیشن کے مرکز آئے تھے۔ تاکہ کچھ کھانے کو حاصل کر سکیں کہ انہیں موت مل گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں