غزہ : اسرائیلی فوج کا فلسطینیوں کے قتل عام کا ہدف 55000 سےبھی آگے چلا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل کی غزہ میں جاری اسرائیل کی طویل ترین جنگ جو اب اکیسویں ماہ میں پہنچ چکی ہے۔ اس میں اسرائیلی فوج نے اب تک 55000 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے۔ یہ بات فلسطینی وزارت صحت نے بدھ کے روز غزہ میں ایک جاری کردہ بیان میں بتائی ہے۔

وزارت صحت نے ان قتل کیے گئے فلسطینیوں کے حوالے سے یہ نہیں بتایا ہے کہ ان مقتولوں میں جنگجو کتنے ہیں اور شہریوں کی تعداد کیا ہے۔ البتہ وزارت صحت نے یہ بات واضح کی ہے کہ نصف سے زائد تعداد فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے۔

یاد رہے یہ فلسطینی مقتولوں کی سات اکتوبر 2023 سے اب تک کی مجموعی تعداد ہے۔ جو 55104ہے۔
تاہم اسرائیل کہتا ہے اس کا ہدف صرف فلسطینی مزاحمت کرنے والوں کو قتل کرتی ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری سےاب تک 127394 فلسطینی ٔزخمی ہو چکے ہیں۔ وزارت صحت کے مطابق ہزاروں افراد جو ملبے تلے دبے پڑے ہیں اور ان کی لاشیں نہیں مل سکی ہیں۔

اس جنگ کے دوران اب تک اسرائیلی فؤج نے 90 فیصد سے زائد آبادی کے گھر بمباری کرکے مسمار بنائے او ر اانہیں بے گھر کے نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے غزہ کے آدھے سے زیادہ حصے کو اپنی فوجی ضرورتوں کے لیے فوجی بفرزون میں تبدیل کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں اڑھائی ماہ سے مسلسل اسرائیلی فوج نے غزہ کو بد ترین محاصرے میں لے رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ کی اس طویل ترہن ناکہ بندی نے اس قحط کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں