اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی جمعرات کو ایک مسودہ قرارداد پر ووٹنگ کر رہی ہے جس میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قبل ازیں گذشتہ ہفتے سلامتی کونسل میں امریکہ نے ایسی ہی ایک کوشش کو ویٹو کر دیا تھا۔
سفارت کاروں کا خیال ہے کہ 193 رکنی جنرل اسمبلی کے متن کو زبردست حمایت کے ساتھ منظور کیے جانے کا امکان ہے حالانکہ اسرائیل نے اس ہفتے ممالک کو اس میں حصہ لینے کے خلاف لابنگ کی جسے اس نے "سیاسی محرکات کی بنا پر اختیار کردہ، بے فائدہ اور جھوٹا عمل" قرار دیا۔
جنرل اسمبلی کی قراردادیں اگرچہ پابند نہیں ہیں لیکن جنگ کے بارے میں عالمی نکتۂ نظر کی عکاسی کے طور پر وزن رکھتی ہیں۔ اسرائیل-حماس جنگ کے خاتمے کے لیے ادارے کے سابقہ مطالبات نظر انداز کر دیئے گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے برعکس کسی بھی ملک کو جنرل اسمبلی میں ویٹو کا حق حاصل نہیں ہے۔
جمعرات کا ووٹ اگلے ہفتے اقوامِ متحدہ کی ایک کانفرنس سے پہلے آیا ہے جس کا مقصد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دو ریاستی حل کے لیے بین الاقوامی دباؤ کو تقویت دینا ہے۔ امریکہ نے ممالک پر زور دیا ہے کہ اس میں وہ شرکت نہ کریں۔
رائٹرز کے ملاحظہ کردہ ایک نوٹ میں امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ "اس کانفرنس کے دوران اسرائیل مخالف اقدامات کرنے والے ممالک کو امریکی خارجہ پالیسی کے مفادات کے مخالف سمجھا جائے گا اور انہیں سفارتی نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے۔"
امریکہ نے گذشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مسودہ قرارداد ویٹو کر دی تھی جس میں "فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی" اور غزہ میں امداد کی بلا تعطل رسائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے لیے یہ دلیل دی گئی کہ اس سے جنگ بندی کے لیے امریکہ کے زیرِ قیادت کوششوں کو نقصان ہو گا۔
بیس لاکھ سے زیادہ آبادی پر مشتمل انکلیو کو ایک عظیم انسانی بحران لاحق ہے اور کئی ہفتوں سے جاری امدادی ناکہ بندی کی بنا پر اقوامِ متحدہ نے قحط سے خبردار کیا ہے تو کونسل کے دیگر 14 ممالک نے اس مسودے کے حق میں ووٹ دیا۔
جمعرات کو جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کے لیے پیش کردہ قرارداد کے مسودے میں حماس کے زیرِ حراست اسرائیلی قیدیوں اور اسرائیل کے زیرِ حراست فلسطینی قیدیوں کی واپسی اور غزہ سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس میں امداد تک بلاتعطل رسائی کا مطالبہ ہے اور "بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسائی سے غیر قانونی انکار اور شہریوں کو ان کی بقا کے لیے ناگزیر اشیاء سے محروم کرنے بشمول امدادی فراہمی اور رسائی میں دانستہ رکاوٹ پیدا کرنے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔"
اسرائیل میں اقوامِ متحدہ کے سفیر ڈینی ڈینن نے رکن ممالک کے نام ایک خط میں لکھا، "یہ غلط بھی ہے اور ہتک آمیز بھی۔" منگل کو ارسال کردہ یہ خط رائٹرز نے ملاحظہ کیا۔
ڈینن نے جنرل اسمبلی کی مسودہ قرارداد کو "انتہائی ناقص اور نقصان دہ متن" قرار دیتے ہوئے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اس میں حصہ نہ لیں۔ ان کے مطابق یہ ایک "مذاق" تھا جو قیدیوں کے مذاکرات کے لیے نقصان دہ ہے اور حماس کی مذمت کرنے میں ناکام رہا ہے۔
اکتوبر 2023 میں جنرل اسمبلی نے 120 موافق ووٹوں کے ساتھ غزہ میں انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ دسمبر 2023 میں 153 ممالک نے انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی کے حق میں ووٹ دیا۔ پھر گذشتہ سال دسمبر میں ادارے نے فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا جس کے حق میں 158 ووٹ آئے۔