کویتی فوج کے جنرل اسٹاف نے واضح کیا ہے کہ ملک کی فضا میں دکھائی دینے والے میزائل درحقیقت کویت کی فضائی حدود سے باہر تھے اور ان سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یہ وضاحت سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کے حوالے سے ہے جن میں مذکورہ میزائلوں کا ذکر کیا گیا تھا۔
جنرل اسٹاف نے آج پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری بیان میں کہا کہ یہ بیلسٹک میزائل انتہائی بلند فضائی حدود میں تھے اور ریاستِ کویت کی فضائی حدود سے باہر گزر رہے تھے، اور یہ کویتی سرزمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آج پیر کی صبح کویتی شہریوں نے کویت ٹاورز کے قریب روشن اجسام کو آسمان میں حرکت کرتے دیکھا، جیسا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی وڈیوز میں دکھایا گیا۔
ان وڈیوز میں تیز رفتاری سے آسمان کو چیرتے ہوئے میزائلوں کو دیکھا جا سکتا ہے، جو ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری بڑھتے ہوئے فوجی تنازع کی ایک جھلک ہیں۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کا تبادلہ مسلسل چوتھے دن بھی جاری ہے، جس کا آغاز جمعے کے روز اسرائیلی افواج کی جانب سے ایران کے کئی مقامات پر بم باری سے ہوا تھا۔ اس بم باری میں جوہری تنصیبات، فوجی اڈوں، اور اعلیٰ فوجی کمانڈروں و جوہری سائنس دانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
-
یہ "Barak Magen" کیا ہے جسے اسرائیل نے پہلی مرتبہ ایرانی ڈرون گرانے کے لیے استعمال کیا !
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ " Barak Magen" فضائی دفاعی نظام ...
بين الاقوامى -
اسرائیلی حملوں کے درمیان تہران کا بڑا بازار بند
پورے شہر میں زیادہ تر دکانیں بند
بين الاقوامى -
ایران-اسرائیل حملوں کے باعث پاکستان کی ایران سے متصل سرحد بند
پاکستان کا صرف "اخلاقی اور سفارتی یکجہتی" کا مظاہرہ
بين الاقوامى